تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 232
کیا کرتا ہے۔جب تین کے نسخہ کی ضرورت تھی اس نے تین نازل کر دی اور جب زیتون کے نسخہ کی ضرورت تھی اس نے زیتون نازل کر دیا۔اس تبدیلی سے خدا تعالیٰ پر کوئی اعتراض عائد نہیں ہوتا۔بلکہ اس کی حکمت پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے بندوں کے فائدہ اور مخلوق کی نفع رسانی کے لئے کرتا ہے۔یہ مضمون جو نہایت ہی لطیف تھا مولوی محمد علی صاحب نے چھوڑ دیا کیونکہ مضمون ظاہر کر رہا تھا کہ اس نکتہ کو بیان کرنے والا کوئی طبیب ہے۔انہوں نے وہ حصہ تو لے لیا جس کے بیان کرنے سے حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی طرف اشارہ نہیں ہوتا تھا۔مگر وہ حصہ ترک کر دیا جس کو بیان کرنے سے آپ کی طرف اشارہ ہو جاتا تھا۔بے شک مولوی محمد علی صاحب نے یہ مضمون بیان کر کے لوگوں سے واہ وا لے لی ہو گی اور وہ ہزاروں غیر احمدی جو ان کی تفسیر میں اس نکتہ کو پڑھتے ہوں گے خیال کرتے ہوں گے کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہایت عجیب بات نکالی ہے مگر افسوس ہے کہ جس شخص نے قرآن کریم کا یہ لطیف نکتہ نکال کر پیش کیا تھا اس کا ذکر انہوں نے چھوڑ دیا اور اس کی محنت کو اپنی طرف منسوب کر لیا پھر جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے وہ بھی مکمل مضمون نہیں بلکہ جیساکہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں وہ حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے مضمون کے اس حصہ کو چھوڑ گئے ہیں کہ جس طرح طبیب حالات کی تبدیلی پر نسخہ تبدیل کر دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے تین کی بجائے زیتون کا نسخہ لوگوں کو استعمال کرانا شروع کر دیا۔یہ نکتہ نہایت ہی شاندار ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک نئی شریعت کے نزول سے لازمی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آخر وجہ کیا ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے موسوی شریعت کو کالعدم قرار دے دیا اوراس کی جگہ محمدی شریعت کو نازل کر دیا۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا طبیب جب کسی مریض کے لیے نسخہ تجویز کر تا ہے تو ہمیشہ ایک ہی نسخہ رکھتا ہے؟ تم جانتے ہو کہ حالات کے بدلنے پر ہر سمجھدار طبیب نسخہ میں تبدیلی کر دیا کرتا ہے کبھی وہ تین استعمال کراتا ہے اور کبھی زیتون۔کبھی ایک دوا استعمال کراتا ہے اور کبھی دوسری۔جب روزانہ دنیا میں یہ نظارہ نظرآتا ہے اور تم جانتے ہو کہ کامل طبیب کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ حالات کے مطابق نسخہ بدل دے تو تمہیں اللہ تعا لیٰ کے اس فعل سے کیوں تکلیف ہوئی اور کیوں تمہارے دل میں یہ اعتراض پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ اس نے موسوی شریعت کی بجائے محمدی شریعت کیوں نازل کر دی ہے؟ غرض مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کے معنے اوّل تو ادھورے نقل کئے ہیں اور پھر آپ کا حوالہ دینے سے وہ کترا گئے ہیں حالانکہ دیانتداری کا تقاضا یہ تھا کہ جس شخص نے یہ معنے نکالے تھے اس کا ذکر بھی کیا جاتا۔میں نے حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے یہ بھی سنا ہوا ہے کہ تین اور زیتون مسیحؑ کے لیے، طور موسٰی کے لیے اور بلدالامین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے گویا ابن کثیر والے مضمون کو بھی آپ پیش کیا کرتے تھے۔