تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 230
ایک ایسی بات ہے جو میں نے اور کسی تفسیر میں نہیں دیکھی۔باقی تفاسیر کی تو یہ حالت ہے کہ جہاں حضرت مسیحؑ کا ذکر آجاتا ہے وہ بوجہ ان روایتوں کے جو حضرت ابوہریرہؓکی مہربانی سے احادیث میں آگئی ہیں ڈرجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو ہم حضرت مسیحؑ سے کسی اور نبی کو افضل قرار دے کر آپ کی ہتک کے مرتکب ہوجائیں مگر ابن کثیر نے جو نہایت اعلیٰ پایہ کے مفسر ہیں قطعی اور حتمی طور پر حضرت مسیح ناصری کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کم درجہ رکھنے والا قرار دیا ہے۔مولوی محمد علی صاحب اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔انجیر کا ذکر دوسری جگہ قرآن کریم میں نہیں ہے مگر زیتون کا سورۂ نور میں ذکر ہے جہاں نور محمدی کو زیتون سے مشابہت دی ہے دوسری طرف بائبل میںانجیر کو سلسلہ موسویہ سے مشا بہت دی ہے چنانچہ یرمیاہ باب۲۴میںلکھا ہے ’’دو ٹوکریاںانجیروں کی خداوندکی ہیکل کے سامنے دھری تھیں۔ایک ٹوکری میں اچھے سے اچھے انجیر تھے۔۔۔۔اور دوسری ٹوکری میںبُرے سے بُرے انجیر‘‘ اورپھر آگے چل کر اچھے انجیروں کو بنی اسرائیل کے اچھے لوگ قرار دیاہے اور بُرے انجیروں کو بُرے لوگ اور حضرت عیسی علیہ اسلام کے مشہور انجیر کے درخت پر لعنت کر نے کے واقعہ میںبھی در حقیقت اسی طرف اشارہ ہے دیکھو متی باب ۲۱ ’’اور جب صبح کوشہر میں جا نے لگا اسے بھوک لگی تب انجیر کا ایک درخت راہ کے کنارے دیکھ کر اُس پاس گیا اور جب پتوں کے سوا اس میں کچھ نہ پایا تو کہا اب تجھ میں کبھی پھل نہ لگے وہیں انجیر کا درخت سوکھ گیا‘‘ پھر لکھتے ہیں بے موسم پھل نہ لگنے پر درخت پرکیا خفگی ہو سکتی تھی۔اصل میں یہ ایک تمثیل تھی۔انجیر کا درخت سلسلۂ بنی اسرائیل کا قائم مقام تھا جسے لفظ پرست انجیل نویسوںنے واقعہ کارنگ دے دیا(بیان القرآن جلد سوم زیر سورۃ التین)۔مگر یہ بات بھی ویری کی طرح کہی گئی ہے واقعہ یہ ہے کہ انجیل کے ما ننے والے بھی اس واقعہ کوظاہری نہیںمانتے بلکہ وہ اس کو ایک تمثیلی واقعہ قرار دیتے ہیںچنانچہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح مو عود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب اس واقعہ سے حضرت مسیح ناصری کے اخلاق کے متعلق استدلال کیا اور لکھا کہ کیا یہی حضرت مسیحؑ کے اخلاق تھے کہ ایک انجیر کے درخت پر محض اس وجہ سے آپ نے لعنت کر دی کہ اس پر پھل نہیں تھا۔حالانکہ اس میں درخت کا کوئی قصور نہ تھا(چشمۂ مسیحی روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۴۶) تو عیسائیوں نے اس کے جواب میں یہ لکھا کہ ہم اس کو ظاہری واقعہ تسلیم نہیں کرتے۔خود انجیل سے ثابت ہے کہ وہ پھلوں کا موسم نہیں تھا اس لئے یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ حضرت مسیحؑ ایک انجیر کے درخت کی طرف اس کے پھل کی امید میں ایسے موسم میں جاتے جس میں پھل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔درحقیقت انجیر کے درخت سے یہودی لوگ مراد ہیں۔حضرت مسیحؑ نے چاہا کہ یہودی قوم ان پر ایمان لا کر زندہ