تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 226
کہ اس سے مراد بیت المقدس ہے۔وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِلَادُ فَلَسْطِیْن اور ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے۔وَقَالَ اَیْضًا بَیْتُ الْمُقَدَّسِ اسی طرح ان سے یہ بھی روایت ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس ہے۔فتح البیان کے مصنف ان معانی کو درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’لَیْتَ شِعْرِیْ مَا الْـحَامِلُ لِھٰؤُلَاءِ الْاَئِـمَّۃِ عَلَی الْعُدُوْلِ عَنِ الْمَعْنَی الْـحَقِیْقِیِّ فِی اللُّغَۃِ الْعَرَبِیَّۃِ وَالْعُدُوْلُ اِلٰی ھٰذَہِ التَّفْسِیْـرَاتِ الْبَعِیْدَۃِ عَنِ الْمَعْنَی الْمَبْنِیَّۃِ عَلٰی خَیَالَاتٍ لَّا تُرْجَعُ اِلٰی عَقْلٍ وَّ نَقْلٍ وَّ اَعْـجَبُ مِنْ ھٰذَا اِخْتِیَارُ ابْنِ جَرِیْرٍ لِلْاٰخِرِ مِنْـھَا مَعَ طُوْلِ بَاعِہٖ فِیْ عِلْمِ الرِّوَایَۃِ وَالدِّرَایَۃِ‘‘(فتح البیان زیر آیت والتین۔۔۔۔۔)۔یعنی مجھے بڑی حیرت آتی ہے اور میری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ یہ جو بڑے بڑے آئمہ ہیں ان کو کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ لغت عرب میں تین اور زیتون کے جو حقیقی معنی ہیں ان کو چھوڑ کر انہوںنے اور اَور معنے کرنے شروع کردیئے اور بعید از قیاس ایسی تفسیریں کرنی شروع کردیں جو ایسے خیالات پر مبنی ہیں جن کی نہ عقل تصدیق کرتی ہے نہ نقل تائید کرتی ہے۔پھر وہ کہتے ہیں مجھے سب سے زیادہ تعجب ابن جریر پر آتا ہے (ابن جریر بہت بڑے مفسر اور محدث ہیں اور ان کی عقلی رائے بھی نہایت اعلیٰ پایہ کی ہوتی ہے) کہ وہ بھی آخری معنوں کی تصدیق کرتے ہیں کہ تین اور زیتون سے یا تو بیت المقدس مراد ہے یا پھر فلسطین کا علاقہ حالانکہ درایت اور روایت میں ان کو بڑا دخل حاصل ہے یعنی باوجود اس قدر علم و فضل کے انجیر اور زیتون کے سیدھے سادے معنے کرنے کی بجائے وہ ادھر اُدھر کی دور از قیاس باتوں میں چلے گئے ہیں۔پھر صاحب فتح البیان لکھتے ہیں قَالَ الْفَرَّاءُ سَـمِعْتُ رَجُلًا یَّقُوْلُ التِّیْنُ جِبَالُ حُلْوَانَ اِلٰی ھَمْدَانَ وَالزَّیْتُوْنُ جِبَالُ الشَّامِ۔یعنی فراء کہتے ہیں میں نے ایک آدمی سے سنا وہ یہ کہہ رہا تھا کہ تین سے مراد حلوان کے پہاڑ ہیں جن کا ہمدان تک سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور زیتون سے مراد شام کے پہاڑ ہیں۔فراء جیسے آدمی کا یہ مضمون بیان کرنا ایک ایسی بات ہے جس پر واقعہ میں ہنسی آتی ہے۔چنانچہ فتح البیان والوں نے یہاں ایک ایسا مزیدار فقرہ لکھا ہے جسے پڑھتے وقت مجھے ہنسی آگئی تھی وہ لکھتے ہیں ھَبْ اَنَّکَ سَـمِعْتَ ھٰذَا الرَّجُلَ فَکَانَ مَاذَا فَلَیْسَ بِـمِثْلِ ھٰذَا تَثَبُّتُ اللُّغَۃِ وَلَا ھُوَ نَقْلٌ عَنِ الشَّارِعِ کہتے ہیں میاں اگر تم نے کسی آدمی سے ایسا سن بھی لیا تھا تو پھر ہوا کیا۔کسی نے گپ ہانک دی تو تم اس کو لے اڑے۔یہ بھی کوئی دانائی اور عقلمندی ہے۔مان لیا کہ تم نے ایک آدمی سے یہ بات سنی تھی مگر کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ اس نے جو کچھ کہا تھا وہ قرآن کریم کی تفسیر ہوگئی۔یہ ایک ایسا بے ساختہ فقرہ صاحب فتح البیان کی قلم سے نکلا ہے جس کی داد دینی پڑتی ہے۔واقعہ میں یہ حیرت کی بات ہے کہ فراء