تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 224

دوسری عربی کتب میں بھی رزق کا لفظ آتا ہے۔قرآن میں بھی جہاد کا لفظ آتا ہے اور دوسری عربی کتب میں بھی جہاد کا لفظ آتا ہے۔قرآن میں بھی غَدًا کا لفظ آتا ہے اور دوسری عربی کتب میں بھی غَدًا کا لفظ آتا ہے مگر اس کے باوجود جس شان اور عظمت کے حامل قرآن کریم کے الفاظ ہیں اس شان اور عظمت کے پاسنگ بھی وہ الفاظ نہیں جو دوسری کتب میں پائے جاتے ہیں۔کیونکہ محض الفاظ کا اشتراک کوئی چیز نہیں بلکہ اصل چیز جو الہام الٰہی کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے وہ ان الفاظ کا ایک ایسے ہار میں پرویا جانا ہے جس کی دنیا میں اور کہیں نظیر نہیں ملتی مگر پھر بھی قطعیت کے ساتھ صرف اجتہاد سے کوئی دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ قرآنی اور غیرقرآنی عبارت کو بغیر قرآن کے حفظ کرنے یا کالحفظ کرنے کے قطعاً الگ الگ پہچان سکتا ہے۔پس ویری کا محض سٹائل کی بنا ء پر اس سورۃ کومکی قرار دینا اس کی خوش فہمی ہے۔اگر ان کے سامنے ہی قرآن کریم کی آیات الگ الگ رکھ دی جائیں اور ان سے پوچھا جائے کہ بتائو ان میں سے مکی کون سی ہیں اور مدنی کون سی تو وہ سینکڑوں غلطیوں کا ارتکاب کرجائیں گے۔وہ اگر سٹائل کو پہچانتے ہیں تو صرف اس نقطۂ نگاہ سے کہ اگر لمبی آیت ہوئی تو اس کے متعلق کہہ دیا یہ مدنی ہے اور اگر چھوٹی آیت ہوئی تو کہہ دیا یہ مکی ہے۔حالانکہ یہ امتیاز تو ایک بچہ بھی کرسکتا ہے۔پس ویری کا مسلمان مصنفوں اور مسلمانوں کی حدیثوں پر یہ حملہ نہایت ناواجب ہے اور اُس بُغض اور کینہ کا ثبوت ہے جو اس کے دل میں اسلام کے متعلق پایا جاتا ہے۔کیونکہ خود مسلمان راوی بھی اس کو مکی قرار دیتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان راویوں کے کہنے کی وجہ سے ہی انہوں نے اس سورۃ کو مکی قرار دیا ہے ورنہ اگر وہ نہ بتاتے تو یہ خود کچھ بھی نہ کہہ سکتے کہ یہ سورۃ مکی ہے یا مدنی۔سورۃ تین کا پہلی سورتوں سے تعلق۔ترتیب اس سورۃ کا سورۃ الانشراح سے یہ تعلق ہے کہ سورئہ انشراح میں بتایا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام اچھا ہوگا کیونکہ نیک انجام کے لئے جن امور کی ضرورت ہوتی ہے وہ آپ کوحاصل ہیں۔اب اس سورۃ میںیہ بتایا گیا ہے کہ پہلی اقوام کی شہادت اس امر کی تائید میں موجود ہے۔دنیا میں جب کوئی عقلی دلیل دیتاہے تو انسان کی پوری تسلی نہیں ہوتی وہ چاہتا ہے کہ مجھے کوئی نقلی دلیل بھی دی جائے تاکہ میں سمجھ سکوں کہ واقعہ میں اس کے مطابق کام ہو سکتا ہے یا نہیں۔سورۃ الانشراح میں عقلی دلیل دی گئی تھی اب اس سورۃ میںنقلی دلیل دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسے ہی حالات میں اللہ تعالیٰ نے بعض پہلی قوموں کو بھی ترقی دی ہے اس سے تم نتیجہ نکال سکتے ہو کہ جس طرح آدمؑ اور نوحؑ اور موسٰی کے وقت میں ہوا کہ باوجود مخالف حالات کے محض روحانی سامانوں سے ان کو فتح حاصل ہوئی اب بھی ایسا ہی ہوگا۔اس کے بعد اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ میں بھی اسی مضمون کو جاری رکھا گیا ہے۔