تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 223

مو لوی محمد احسن صا حب امروہی میں یہ مرض تھا کہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام جب بھی کوئی بات کرتے وہ درمیان میں جلدی جلدی بو لنا شروع کر د یتے تھے اور واہ وا! اور سبحان اللہ کہنے لگ جاتے مثلاً حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام جب کسی گفتگو میں فر ما تے کہ قر آ ن کریم نے فلا ں بات نہایت لطیف طور پر بیان کی ہے تو وہ کہنا شروع کر دیتے تھے کہ سبحا ن اللہ بڑی لطیف بات ہے کس کی طاقت ہے کہ ایسی بات کہہ سکے۔ایک دفعہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام سیر کے لیے جا رہے تھے میں بھی ساتھ تھا کہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مجھے آج ایک الہام ہوا ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام اور بندے کے کلام میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔جب حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے یہ بات بیان فرمائی تو مولوی محمداحسن صاحب نے جھٹ ہاتھ مارنے شروع کردئیے اور کہا حضور فرق ـ!خدا کے کلام اور بندہ کے کلام میں زمین اور آسمان کا فرق ہے حضور خدا کا کلام خدا کا کلام اور بندے کا کلام بندے کا کلام،بھلا ممکن ہے بندہ اپنے کلام میں خدا کا مقا بلہ کر سکے؟ یہ تو بالکل ناممکن ہے۔جب وہ ذرا خاموش ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر بات شروع کی اور فرمایا دیکھو حریری عربی ادب کے لحا ظ سے کمال کو پہنچا ہوا تھا مگر الہام الٰہی میں جو باریکیاں ہوتی ہیں وہ اس کے کلام میں کہاں ہیں؟مولوی محمد احسن صاحب نے پھر کہنا شروع کردیا حضور حریری! بھلا حریری میں رکھا ہی کیا ہے؟ اس کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا کے کلام کا مقابلہ کرسکے۔خدا کا کلام جس شان اور عظمت کاحامل ہوتا ہے بھلا حریری کی طاقت ہے کہ اس جیسا کلام کہہ سکے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مثلاً یہ فقرہ ہے ابھی وہ فقرہ مولوی محمد احسن صاحب نے سنا ہی تھا کہ انہوں نے جھٹ کہنا شروع کردیا۔حضور یہ بھی کوئی فقرہ ہے۔یہ بھی کوئی عربی ہے۔حریری کیا جانتا ہے کہ عربی کیا ہوتی ہے؟ حالانکہ وہ الہام تھا حریری کا فقرہ نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔مولوی صاحب! سنیے تو سہی یہ حریری کا فقرہ نہیں یہ تو وہ الہام ہے جو مجھ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اب دیکھو مولوی محمد احسن صاحب مولوی آدمی تھے۔رات دن عربی کتابیں پڑھنے میں مشغول رہتے تھے اور اگر سٹائل کو پہچاننا ایسا ہی آسان کام ہوتا تو وہ فوراً پہچان لیتے کہ یہ انسانی کلام ہے یا خدائی کلام مگر پھر بھی وہ غلطی کرگئے اور انہوں نے الہام کو انسانی کلام سمجھ لیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موانست اور مشابہت کی وجہ سے انسان بعض دفعہ اندازہ کرلیتا ہے کہ یہ مکی سورۃ ہے یا مدنی سورۃ ہے مگر یہ اندازہ دلیل نہیں بن جاتا۔مثلاً جہاں تک عربی الفاظ کا تعلق ہے جس طرح وہ الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں اسی طرح اور عربی کتب میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔قرآن میں بھی رزق کا لفظ آتا ہے اور