تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 222
ہے۔ویری بھی اس کی تائید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا سٹائل مکی ہے۔(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry vol:4 Page257) میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ یہ اس کی زبردستی ہے۔وہ عربی بھی اچھی طرح نہیں جانتا سٹائل کو کہاں پہچان سکتا ہے۔اسی طرح وہ کہتا ہے کہ اس سورۃ میں هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ کے جو الفاظ آتے ہیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ سورۃ مکی ہے۔کیوں کہ اس میں هٰذَا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’’یہ شہر مکہ‘‘ جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ویری کی یہ دلیل وزنی ضرور ہے مگر قطعی نہیں۔ہم اتنے حصہ میں اس سے متفق ہیں کہ یہ مکی ہے۔مگر اس نے اپنے بُغض کی وجہ سے یہ بھی لکھاہے کہ بعض مسلمان مصنف ان حدیثوںکی اندھا دھندتقلید میں جو قرآن کریم کو واضح کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں اسے مدنی قرار دیتے ہیں نہایت ناپسندیدہ فعل ہے۔یہ فقرہ اس کے بُغض پر دلالت کرتا ہے۔کیوں کہ جمہور مسلمان تو اسے مکی قرار دیتے ہیں اور ہمارا اپنا فائدہ بھی اگر مسلمان فائدہ اٹھانے کے لئے حدیثیں بناتے ہیں تو اسے مکی قرار دینے میں ہی ہے۔پس جبکہ جمہور بھی اسے مکی قرار دیتے ہیں مسلمان مصنفوں پر اس قدر رکیک الزام اور خصوصاً احادیث پر نہایت قابل شرم امر ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ روائتیں اسے مکی قرار دے رہی ہیں صرف قرطبی نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں اسے مدنی قرار دیا ہے مگر ممکن ہے کہ وہاں کتابت کی غلطی کی وجہ سے مکی کی بجائے مدنی لکھا گیا ہواور اگر وہ کتابت کی غلطی نہیں تب بھی قرطبی اصل راوی نہیں بلکہ وہ دوسروں کی روائتوں کو نقل کرنے والا ہےاور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اصل راوی سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ سورۃ مدنی نہیں بلکہ مکی ہے۔لیکن ویری کا اسے سٹائل کی وجہ سے مکی قرار دینا محض دھینگا مشتی ہے۔اگر پادری ویری کے سامنے ہی قرآن کریم کھول کر رکھ دیا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ اگر تم سٹائل کو پہچاننے کا ملکہ اپنے اندر رکھتے ہو تو بتائو اس میں سے مکی آیات کون سی ہیں اور مدنی آیات کون سی تو وہ بیسیوں غلطیاں کر جائیں گے یہاں چونکہ تمام روائتیں اس سورۃ کو مکی قرار دے رہی تھیں انہوں نے سمجھا کہ میں اس کے مکی ہونے کا ثبوت اس سورۃ کے سٹائل کو قرار دے کر ایک جدت پیدا کر دوںحالانکہ سٹائل کو پہچاننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا انسان جورات اور دن غور کرتا رہا ہو اورجس نے باریک طور پر تدبر اور دماغی کاوش سے کام لیاہو اُس کے لئے بھی سٹائل کو الگ طور پر پہچاننا مشکل ہوتا ہے اور باقی لوگوں کے لئے تو اس قدر مشکل مرحلہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ لاکھوں میں سے کسی ایک کے لئے یہ بات ممکن ہوتو ہوباقی کسی کے لئے سٹائل کو پہچاننا ممکن نہیں ہے۔یہی بات دیکھ لو سب مسلمان قرآن جانتے اور اسے پڑھتے ہیں مگر پھر کئی مقرر مسلمان بعض ضعیف حدیثیں پیش کر کے کہہ دیتے ہیںکہ قرآن کریم میں ایسا لکھا ہے حالانکہ وہ ویری سے زیادہ قرآن جانتے ہیں۔