تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 220

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْؒ۰۰۹ اور تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہو۔تفسیر۔فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تم اس طرح چوٹیوں پر چڑھتے چلے آئو گے تو دیکھو گے کہ ہم آگے بیٹھے ہیں ہم بلندیوں پر رہتے ہیں اور وہی ہمارے پاس آسکتا ہے جو غیر محدود جدوجہد سے کام لینے والا ہو۔اس لئے ہماری ملاقات کے راستہ میں کسی مقام پر ٹھہرنا نہیں بلکہ بڑھتے چلے آنا۔عیسوی مقام آجائے تو ٹھہرنا نہیں بلکہ اوپر چڑھنا۔موسوی مقام آجائے تو ٹھہرنا نہیں بلکہ اوپر چڑھنا پہلے آسمان پر پہنچو تو وہاں ٹھہرنا نہیں بلکہ اپنی کمر باندھ لو اور دوسرے آسمان پر پہنچو دوسرا آسمان آئے تو تیسرے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو تیسرا آسمان آئے تو چوتھے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو۔چوتھا آسمان آئے تو پانچویں آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو۔پانچواں آسمان آئے تو چھٹے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو چھٹا آسمان آئے تو ساتویں آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو۔ساتواں آسمان آئے تو اس بھی اوپر پہنچنے کی کوشش کرو۔اوپر ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں تم اپنے رب کی طرف آئو اور اپنا انعام پا لو۔