تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 219
کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے اور اب وہ اپنے کام سے فارغ ہو گئے ہیں۔اگر وہ ایک کام سے فارغ ہو جا ئیں گے تو دوسرا کام شروع کر دیںگے دوسرے کام سے فارغ ہوں گے تو تیسرا کام شروع کر دیں گے۔ہم جب بچے تھے اس وقت ایک کھیل کھیلا کر تے تھے جو اسی مفہوم کو ادا کرتی ہے۔ایک لڑکا بیٹھ جا تا تھا اور باقی سب لڑ کے اس کے سر پر اوپر نیچے اپنی مٹھیاںبند کر کے رکھتے چلے جاتے اور پھر ایک لڑکا کہتا بھنڈا بھنڈاریا کتنا کُ بھار وہ جواب میں کہتا اک مکّی چک لے دوجی تیار یعنی ایک مٹھی سر پر سے ہٹا لو تو دوسری مٹھی اس کی جگہ لینے کو تیار ہے۔اسی طرح فرماتا ہے تمہارے لئے غیر معمولی ترقیات مقدر ہیں جب تم ایک مشکل کو حل کر لو گے تو خدا تعالیٰ دوسری مشکل تمہارے سامنے کھڑی کر دے گا تاکہ تم اس کو حل کر کے اور زیادہ ترقی کرو اور زیادہ قرب اور محبت کے مقامات طے کرو۔گویا کوئی مقام ایسا نہیں آسکتا جسے تم اپنی ترقی کی آخری منزل قرار دے سکو۔ہر مقام پر پہنچ کر ایک نیا دروازہ تمہارے لئے کھول دیا جائے گا اور اس طرح غیر متناہی ترقیات کا سلسلہ تمہارے لئے قائم کیا جائے گا۔بے شک ہم نے تجھ سے وعدہ کیا ہے کہ ہم تجھے کامیاب کریں گے اور تیری ہر مشکل کو دور کریں گے مگر فتح اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد یہ نہ سمجھنا کہ میرا کام ختم ہوگیا ہے بلکہ ہر فتح کے بعد نئی مشکلات سامنے آجائیں گی کیونکہ روحانی ترقی کے اسرار میں سے یہ بات ہے کہ نئی سے نئی مشکلات پیدا ہوتی جائیں اور انہیں سر کیا جائے۔پس تم یہ خیال نہ کرنا کہ شیطانی حملہ صرف ایک رنگ کا ہوگا اور اس کا ایک رنگ میں مقابلہ کرنا ہی اس کو شکست دینے کے لئے کافی ہو گا بلکہ شیطان کے حملے مختلف انواع کے ہوں گے۔اس کے حملے علمی بھی ہوںگے، اس کے حملے عملی بھی ہوں گے اس کے حملے فکری بھی ہوں گے اس کے حملے سیاسی بھی ہوںگے اس کے حملے اقتصادی بھی ہوں گے اور یہ تمام حملے اس کی طرف سے یکے بعد دیگرے ہوتے چلے جائیں گے۔تمہارا کام یہ ہو گا کہ ایک دشمن کو مارا اور آگے بڑھے، دوسرے دشمن کو مارا اور آگے بڑھے، تیسرے دشمن کو مارا اور آگے بڑھے۔اس طرح ایک ایک کر کے دشمن کو ہٹاتے چلے گئے اور خدا تعالیٰ کے قرب کی بلندیوں میں اپنی پوری تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتے گئے۔