تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 218
تفسیر۔یہاں ایک عجیب بات بیا ن کی گـئی ہے بظا ہر فراغت کے یہ معنی ہو تے ہیں کہ مشکل دور ہوگئی اور کام ختم ہو گیا مگر اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے جب توفا رغ ہو جائے تو پھر محنت میں مشغو ل ہو جا پس سوال پیدا ہو تا ہے کہ جب فارغ ہونے کے بعدبھی محنت میں ہی مشغول رہنا ہے تو پھر فراغت کیسی ہوئی؟درحقیقت اس میںاسلام کی ترقی کے متعلق پیشگو ئی کی گئی ہے اور بتا یا گیا ہے کہ کتنا بلند مقصد ہے جو ہم نے اپنے رسول کے سامنے رکھا ہے۔بعض دفعہ دنیا میں یک دم کوئی تغیر پیدا ہو جا تا ہے مگر وہ دیر پا نہیں ہو تا بلکہ جلد ہی رو بہ زوال ہو جاتا ہے لیکن بعض تغیرات ایسے ہو تے ہیں جوگو تدریجـــاً پیدا ہوتے ہیں مگر ایک لمبے عرصہ تک دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دیتے ہیں اللہ تعا لیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ تیری ترقی گو تدریجی ہو گی مگر تیری کو ششو ںکے نتائج مستقل اور دیر پا ہوں گے۔پہلے ایک مشکل تمہارے سامنے آئے گی اور جب تم اس کو دور کر لو گے اور اپنے پہلے مقام سے اونچے ہو جا ئو گے تو پھر دوسری مشکل پیش آجائے گی اس وقت تمہارا فرض ہوگا کہ اس دوسری مشکل کو دور کرو اور اپنے مقام سے اور اونچے ہو جا ئو جب وہ مشکل بھی حل ہو گئی تو ایک تیسری مہم تمہارے سامنے آجائے گی اُس وقت تمہارا فرض ہوگا کہ اُس تیسری مہم کو سر کرو اور اپنے مقام سے اور اونچے ہو جاؤ گویا ایک دور ہے جو چلتا چلا جائے گا اور غیر متناہی تر قیات ہیں جو تمہا رے سا منے آتی چلی جائیں گی کوئی وقت اور کوئی لمحہ تمہاری زند گی میں ایسا نہیں آ سکتا جب تم یہ خیال کر لو کہ میں اپنا کام ختم کر چکا یا میںنے جس بلندی پر پہنچنا تھا پہنچ گیا وہ شخص جو صرف پا نچ ہزارفٹ کی بلندی پر چڑہنا چاہے جب پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ جاے گا بیٹھ جا ئے گا اور کہے گا کہ میں جس مقام پر پہنچنا چاہتا تھا پہنچ گیا مگر جس شخص کا یہ مقصد ہو کہ وہ ساری چڑھا ئیوں پر چڑھتا چلا جائے وہ کسی مقا م پر نہیں رکے گا بلکہ ایک چو ٹی کے بعددوسری چوٹی اور دوسری چوٹی کے بعد تیسری چوٹی پر وہ چڑ ھتا چلا جائے گا۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علمی اور عملی کام کیا گیا تھا اس کی کوئی انتہاء نہیں تھی اس لئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں آپ کو مخاطب کر کے فر ماتا ہے۔اے محمد رسول اللہ ہم نے تیرے لئے کوئی محدود مقصود مقر ر نہیں کیا بلکہ غیر معمولی تر قیات کادروازہ تیرے لیے کھولا گیا ہے جب تو کسی ایک مہم کو سر کر لے تو سمجھ لے کہ ابھی اس سے او پر کی مہم کو تو نے سر کر نا ہے اور جب دوسری مہم بھی سر ہو جاے تو تُوسمجھ لے کہ تیسری مہم تیرے سا منے کھڑی ہے اور تیرا فرض ہے کہ تُواس کو بھی سر کرے۔غرض تُو نے بلندیوں کی طرف اپنے پورے زور کے سا تھ بڑھتے چلے جانا ہے اور کسی ایک مقام پر بھی اپنے قدم کو نہیں روکنا۔گویا فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر متناہی سفرکی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ اپنے کام میں بڑھتے چلے جائیں گے اور کوئی وقت ایسا نہیں آئے گا جب یہ کہا جا سکے