تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 215
لیکن بعض نحوی کہتے ہیں کہ آیت میں يُسْرًا کا نکرہ کے طور پر استعمال اور پھر اس کا تکرار بتارہا ہے کہ یہاں ایک نہیں بلکہ دو یسر مرا د ہیں۔بے شک عسر ایک ہی ہے مگر یسر دو ہیں۔ان کے نزدیک اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک اور بھی بہت بڑی آسانی ہے(فتح البیان زیر سورۃ الانشراح فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا)۔گویا نکرہ کا تکرار اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یسر دو۲ ہیں اور یسر کی تنوین بتاتی ہے کہ ہر یسر بہت بڑی شان کا ہے۔ان دوسرے معنوں کی احادیث سے بھی تائید ہوتی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ہنستے ہوئے اپنے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے دیکھاہے کہ عسر یسر کے پیچھے دوڑا چلا جارہا ہے۔پھر آپ نے فرمایا ایک عسر دو یسر پر غالب نہیں آسکتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشفاً بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی مفہوم سمجھایا گیا ہے کہ یسر دو ہیں اور عسر ایک ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دو یسر کون سے ہیں جن کا اس آیت میں ذکر آتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو پورے طور پر اسی وقت سکون حاصل ہوتا ہے جب ذہنی اور خارجی طور پر دونوں لحاظ سے اسے اطمینان کے سامان میسر ہوں۔اگر کوئی شخص ایسا ہو جس کی باتوں کی لوگ تردید کرتے ہوںتو گو وہ اسے مارپیٹ نہیں رہے ہوتے اور خارجی طور پر اسے کوئی دکھ نہیں ہوتا مگر ذہنی طور پر اس کے اندر ایک خلش اور بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ اطمینان جس کا انسان متلاشی ہوتا ہے اسے پورے طور پر میسر نہیں ہوتا۔ہم ایسے شخص کو دیکھ کر یہی کہیں گے کہ گو اسے خارجی طور پر یسر میسر ہے مگر ذہنی طور پر عسر میں مبتلا ہے۔لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ یُوں تو تردید نہیں کرتے لیکن موقعہ ملے تو مارپیٹ لیتے ہیں۔قصہ مشہور ہے کہ ایک جاٹ کے کھیت کے پاس ایک دفعہ کسی شخص نے آکر ڈیرہ لگا دیا اور اس نے لوگوں سے کہنا شروع کردیا کہ میں خدا ہوں۔کئی مشٹنڈے اس نے اکٹھے کرلئے جو اردگرد کے گائوں سے بھیک مانگ لاتے اور جو شخص وہاں آتا اسے کہتے کہ یہی خدا ہیں ان کو سجدہ کرو۔وہ زمیندار روزانہ یہ نظارہ دیکھتا مگر کچھ کر نہ سکتا کیونکہ وہ اکیلا تھا اور اس شخص کے ارد گرد ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ایک دن اتفاقاً سب لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور وہ جو اپنے آپ کو خدا کہتا تھا اکیلا رہ گیا۔زمیندار نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا وہ ہل چھوڑ کر فوراً اس کے پاس گیا اور دو زانو بیٹھ کر کہنے لگا میں حضور سے یہ دریافت کرنے آیا ہوں کہ کیا حضور ہی خدا ہیں؟ اس نے کہا ہاں میں ہی خدا ہوں۔یہ سنتے ہی اس نے کود کر اس کی گردن پکڑ لی اور زور سے اسے ایک گھونسہ مار کر کہا اچھا میرے باپ کی تو نے ہی جان نکالی تھی۔پھر ایک اور گھونسہ مار کر کہا اچھا میری ماں کی بھی تونے ہی جان نکالی تھی۔پھر ایک اور گھونسہ مار کرکہا اچھا تونے ہی میری بہن کی جان نکالی تھی۔اس طرح ایک ایک کرکے وہ اپنے مردہ رشتہ داروں کا نام