تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 212

کردیا ہے۔اس فتنہ کے سدباب کے لئے اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔مخالفت کا یہ جوش و خروش اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تذلیل کی یہ کوششیں ثبوت تھیں اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعلیم میں ایسی کشش رکھی تھی کہ دنیا سمجھتی تھی اس کا ہمارے ساتھ ٹکرائو ہماری تباہی اور بربادی کا موجب بننے والا ہے۔یہی تیسری چیز ہے جو کامیابی کے لئے ضروری ہوتی ہے۔لوگ شور مچاتے ہیں، مخالفت کے لئے پورے جوش سے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ہرقسم کی تدابیر سے اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ ایسا کرتے ہیں سعادت مند طبائع تحقیق کی طرف مائل ہوجاتی ہیں اور آخر اس مخالفت کے نتیجہ میں وہ ایمان لے آتی ہیں۔مخالفت ہدایت کا موجب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست جو بہت بڑے شاعر تھے لغت کی انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کی دو تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں ریاست رامپور ان کو اس کام کے لئے وظیفہ دیا کرتی تھی، قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملے۔آپ نے ان سے پوچھا کہ آپ کو ہمارے سلسلہ کی طرف کیسے توجہ پیدا ہوئی؟ انہوں نے بڑی سادگی سے جواب دیا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ذریعہ سے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کس طرح؟ انہوں نے عرض کیا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا رسالہ ’’اشاعۃ السنۃ‘‘ ہمارے ہاں آیا کرتا تھا میں یہ تو جانتا ہی تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بہت بڑی شہرت رکھنے والے اور سارے ہندوستان میں مشہور ہیں مگر ان کے رسالہ کو دیکھ کر بار بار میرے دل میں خیال آتا کہ اگر ان کے دل میں اسلام کا واقعی درد تھا تو انہیں چاہیے تھا کہ مدرسے جاری کرتے، قرآن اور حدیث کے درس کا انتظام کرتے، لوگوں کو اسلامی احکام پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتے۔مگر انہیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ سارے کام چھوڑ کر بس ایک بات کی طرف ہی متوجہ ہوگئے ہیں اوردن رات احمدیت کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔اس میں ضرور کوئی بات ہے۔چنانچہ مجھے ان کی مخالفت سے تحقیق کا خیال پیدا ہوا اور میں نے کسی شخص سے اپنے اس شوق کا اظہار کیا۔اس نے مجھے ’’درثمین‘‘ پڑھنے کے لئے دی۔میں نے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں جب آپ کا کلام دیکھا تو میں نے کہا لو پہلا جھوٹ تو یہیں نکل آیا کہ کہا جاتا تھا مرزا صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔حالانکہ جو عشق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ کے دل میں پایا جاتا ہے اس کی موجودہ زمانہ میں نظیر ہی نہیں ملتی۔اس کے بعدمیں نے مزید تحقیق کی اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ احمدیت سچی ہے۔اسی طرح ہر سال مجھے دس بیس خطوط ضرور ایسے آجاتے ہیں جن میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ جب ہم نے احمدیت کی مخالفت میں کتابیں پڑھیں تو ہمارے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہم جماعت احمدیہ کی کتابیں بھی پڑھ کر دیکھیں۔چنانچہ ہم نے آپ کی کتب کا