تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 211

اعلان کرتا ہوں کہ نظر تو مجھے اسی طرح آتا ہے کہ زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے مگر چونکہ بائبل کہتی ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے میرا دماغ خراب ہوگیا ہے اورشیطان میرے سر پر سوار ہے۔پادری اس اعلان پر خوش ہوگئے اور انہوں نے سمجھا کہ گلیلیو نے توبہ کرلی ہے۔حالانکہ یہ اعلان خود بتارہا تھا کہ اس نے توبہ نہیں کی محض پادریوں کو خوش کرنے کے لئے اس نے ایسے الفاظ میں اعلان کردیا جس سے وہ دھوکہ کھاگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ گلیلیو نے اپنے نظریہ کو ترک کردیاہے۔غرض مادی دنیا ہو یا روحانی اس میں جب بھی کوئی ایسی بات نکلتی ہے جس کے خلاف لوگوں کے عقائد ہوتے ہیں تو لوگ اس کی مخالفت شروع کردیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ بات دنیا میںپھیل گئی تو ہم جس تعلیم کو پیش کرتے ہیں وہ دنیا میں کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں صداقت کو بہرحال تسلیم کرلیا جاتا ہے۔مگر ابتداء میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگ مخالفت کرتے ہیں اور ہر قسم کی تدابیر سے سچائی کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ہم نے تیرا ذکر بلند کردیا ہے۔یہاں ذکر کا بلند ہونا ماننے کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ دنیا میں ہر جگہ تیرا ذکر ہور ہا ہے چاہے اچھے رنگ میں ہو یا برے رنگ میں۔تعریف کے رنگ میں ہو یا مذمت کے رنگ میں۔بہرحال ہر مجلس اورہر محفل اور ہر گھر اور ہر خاندان میں تیرا نام بلند ہورہا ہے اور ایک شور ہے جو تیری وجہ سے برپا ہے۔کوئی کہتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا بات کہتے ہیں کہ خدا ایک ہے اور بت کوئی چیز نہیں۔ہم تو باپ دادا سے ان بتوں کو مانتے چلے آئے ہیں۔اس کے کہنے کی وجہ سے بتوں کی پرستش کو کس طرح ترک کردیں۔کوئی کہتا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی غلط بات تو نہیں کہہ رہا تم بے شک اپنے بتوں کو جوتیاں مار کر دیکھ لو وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔پھر کوئی اور بول اٹھتا اور کہتا یہ فتنہ بڑھتا جارہا ہے آئو ہم لوگوں سے یہ کہنا شروع کردیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پاگل ہوگیا ہے۔اس پر ایک چوتھا شخص کہہ اٹھتا کچھ ہوش کی دوا کرو کیا وہ پاگل ہے؟ اگر پاگل ہوتا تو ایسے ایسے سمجھدار اشخاص اس کی طرف کیوں کھچے چلے جاتے۔اس پر ایک پانچواں شخص کہتا پاگل تو نہیں مگر شاعر ضرور ہے مگر پھر انہی میں سے کوئی بول اٹھتا اس کی کتاب تو دیکھو کیا وہ شعروں میں ہے اگر نہیں تو تم اسے شاعر کس طرح کہہ سکتے ہو۔کوئی اور کہتا اصل میں وہ نہ پاگل ہے نہ شاعر۔بلکہ درحقیقت کاہن ہے اور کاہنوں کی طرح غیب کی بعض خبریں دے دیتا ہے۔اس پر پھر بعض لوگ انہی میں سے کھڑے ہوجاتے اور کہتے وہ کاہن کس طرح ہے وہ تو کاہنوں کو جھوٹا کہتا ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کا ایک سلسلہ تھا جو ہرمجلس اور ہر خاندان میںجاری تھا۔جہاں بھی دیکھو یہی ذکر ہوتا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بہت بڑا فتنہ پیدا