تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 195

نشان تھا تو اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ یہ ظاہری واقعہ تھا۔یا ظاہر میں انسانی قلب پر کوئی میل ہوتی ہے جسے دھونے کی ضرورت ہوتی ہے۔غرض یہ غلط ہے کہ یہ ایک ظاہری واقعہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرا۔یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ ایک کشف تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایاگیا ہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کی عظمت کے اظہار کے لئے اور آپ کے رضاعی خاندان کے دل میں آپ کی محبت پید اکرنے کے لئے ایسا تصرف کیا کہ حلیمہ کے بیٹے نے بھی اس واقعہ کو دیکھ لیا۔اور اس کی گواہی سے سب پر یہ اثرا ہوا کہ یہ غیر معمولی واقعہ بتارہا ہے کہ یہ لڑکا ایک دن بہت بڑی عظمت اور شان حاصل کرے گا۔پھر یہ بتانے کے لئے کہ یہ کشف واقعہ میں ہم نے دکھایاتھا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ پر بھی نشان پیدا کردیا۔تاکہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے اس نشان کے گواہ رہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کرتے پر سرخ روشنائی کے قطرات اللہ تعالیٰ نے اس لئے ڈالے تاکہ اور لوگ بھی اس نشان کے گواہ رہیں۔گو معتبر روایتوں میں یہ ذکر نہیں آتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ پر نشان تھا۔مگر ہمیں اس کو تسلیم کرنے سے انکار کی خاص ضرورت نہیں۔اگر روشنائی کے نشان اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کپڑوں پر پیدا کرسکتا ہے تو اس کشف کی تصدیق کے لئے اگر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ پر کوئی نشان پید اکردیا ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔پس جس حد تک اس واقعہ کو کشفی ماننے کا تعلق ہے ہمیں اس کی صحت سے ہرگز انکارنہیں لیکن جس حد تک اس واقعہ کو مادی قرار دینے کا سوال ہے ہمارے نزدیک یہ بات عقل کے خلاف ہے ورنہ جیسا کہ احادیث میں آتا ہے ماننا پڑے گا کہ جب کوئی شخص برا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نشان پڑ جاتا ہے اور جب اچھا کام کرتا ہے تو اس کا دل اعلیٰ حالت میں رہتا ہے۔حالانکہ یہ بات واقعات کے خلاف ہے۔نعشوں کو چیرنے پھاڑنے اور مختلف امراض کے نتیجہ میں انسانی جسم میں جو تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کو دیکھنے بھالنے کا کام اس زمانہ میں بہت ترقی پر ہے۔لاکھوں نعشیں اب تک چیری جاچکی ہیں اور تشریح الابدان کے ماہرین نے ان تمام تغیرات کا پوری طرح جائزہ لے لیا ہے جو امراض کے نتیجے میں انسانی جسم میں واقعہ ہوتے ہیں۔اگر اس نظریہ کو درست تسلیم کرلیا جائے کہ برے کام کے نتیجہ میں قلب پر مادی شکل میں سیاہی چھا جاتی ہے اور اچھے کام کے نتیجہ میں قلب پر مادی شکل میں نور آجاتا ہے تو کئی مسلمانوں کو کافر اور کئی کافروں کو مسلمان قرار دینا پڑے گا۔وہ مسلمان جو دم گھٹ کر مر جاتے ہیں ان کے دل یقیناً کالے ہوں گے اور وہ ہندو او رسکھ جن کے تنفس پر بیماری کا اثر نہیں ہوتا ان کے دل یقیناً اچھی حالت میں ہوں گے۔ایسی حالت میں ہمیں روزانہ کافروں کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر قرار دیناپڑے گا اور یہ حقیقت کے خلاف ہے۔