تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 194

ہیں کہ انہوں نے اسی طرح آپ کا سینہ چاک کیا اور اسی طرح آپ کا دل نکال کر دھویا۔جس طرح وہ جگر بناتے ہیں، تلی بناتے ہیں، دل اور پھیپھڑا بناتے ہیں۔جس طرح وہاں وہ انسان کا دل اور جگر بناتے ہیں اسی طرح یہاں بھی انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دل نکالا۔اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ بات ایسی ہے جسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایک کشف دیکھا تھا اور کشفی نظارہ بعض دفعہ دوسرے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ساری غلطی مسلمانوں کو ا س وجہ سے لگی ہے کہ حلیمہ کے بیٹے نے بھی یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔وہ کہتے ہیں اگر یہ ظاہری واقعہ نہیں تھا تو حلیمہ کے بیٹے نے کس طرح دیکھ لیا؟ حالانکہ اگر صحابہؓ جبریل کو دیکھ سکتے ہیں تو حلیمہ کا بیٹا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کشفی واقعہ کو کیوں دیکھ نہیں سکتا تھا۔حدیثوں میں آتا ہے ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ سے مختلف سوالات کئے جن کے آپ نے جوابات دیئے۔جب وہ چلا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے پوچھا جانتے ہو یہ کون تھا؟ صحابہ نے کہا یارسول اللہ ہمیں تو معلوم نہیں۔خدا اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جبریل تھا جو تمہیں علم سکھانے کے لئے آیا۔اب دیکھو جبریل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا مگر صحابہؓ نے بھی دیکھ لیا۔پس کئی ایسے کشفی نظارے ہوتے ہیں جن میں ساتھ کے لوگ بھی شریک ہوجاتے ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ مادی واقعہ ہوتا ہے۔پھر معلوم نہیں وہ صرف چھری کومادی کیوں قرار دیتے ہیں۔فرشتے کو بھی کیوں مادی نہیں سمجھ لیتے۔مگر وہ فرشتے کو تو روحانی قرار دیتے ہیں اور چھری کو مادی قرار دیتے ہیں۔اگر آدھی روحانی چیز تھی تو آدھی مادی کیوں ہوگئی؟ وہ کہتے ہیں اس واقعہ کے مادی ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ پر اس کا نشان تھا۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللہ الی السمٰوات و فرض الصلوٰت) ہم کہتے ہیں اگر نشان تھا تب بھی یہ اس واقعہ کے مادی ہونے کا ثبوت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے ایک نشان دکھایا جس کے نتیجہ میں آپ کے کپڑوں پرسرخ روشنائی کے بعض نشانات آگئے مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ ظاہری واقعہ تھا۔تھا تو یہ کشفی واقعہ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کشف کی صداقت کے لئے ظاہر میں بھی روشنائی پیدا کردی یہ بتانے کے لئے کہ میں قادر مطلق خدا تمہیں یہ نظارہ دکھارہا ہوں۔پس گو یہ واقعہ مادی نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر میں اس کا نشان پیدا کردیا۔اسی طرح اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ پر