تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 193

اگر دل بنانے کے لئے فرشتے کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔اگر پھیپھڑا بنانے کے لئے وہ کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔اگر جگر اور معدہ بنانے کے لئے وہ کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔اگر تلی بنانے کے لئے وہ کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔اگر دماغ بنانے کے لئے وہ کسی کا سر پھاڑنے کے محتاج نہیں تو وہ دل کو صاف کرنے کے لئے کسی کا سینہ چاک کرنے کے کیوں محتاج ہوگئے؟ جس طر ح وہ پیٹ چیرے بغیر انسان کے اندر گھس گئے تھے اور انہوں نے دل اور دماغ اورمعدہ اور جگر وغیرہ بنادیا اسی طرح وہ سینہ کو چیرے بغیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بھی صاف کرسکتے تھے۔پھر سوال یہ ہے کہ آیا فرشتوں کو چھریوں کی ضرورت ہوتی ہے؟ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں، پہاڑوں، دریائوں اور دوسری سب چیزوں کے بنانے میں خدا تعالیٰ کے ملائکہ بھی ایک علت کے طور پر کام کرتے ہیں مگر جب وہ پہاڑ اور دریا وغیرہ بناتے ہیں تو نہ انہیں ہتھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ آری کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کدالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ بغیر ان مادی ہتھیاروں کے یہ تمام کام سر انجام دے دیتے ہیں۔پھر وجہ کیا ہے کہ اور جگہ تو انہیں کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں پڑتی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی صفائی کے لئے جب ان کو آنا پڑا تو وہ چھری بھی اپنے ساتھ لے آئے جس سے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سینہ چاک کیا۔پس یہ روایت عقل کے بالکل خلاف ہے۔کروڑوں کروڑ کام دنیا میں فرشتے کرتے ہیں مگر کبھی اس رنگ میں انہوں نے اپنے فرائض کو سرانجام نہیں دیا۔پس اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عملی طور پر ایسا ہوا تھا تب بھی اس کے لئے پیٹ کو چاک کرنے کی ضرورت تسلیم نہیں کی جاسکتی اور نہ چھریوں کی حاجت تسلیم کی جاسکتی ہے۔فرشتے اگر کسی کے دل کی صفائی کے لئے پیٹ کو چاک کریں تو وہ وزیر آباد یا بھیرہ کی بنی ہوئی چھریوں کے محتاج نہیں ہوتے۔درحقیقت اس غلطی کی بناء یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف یہ خیال کرلیاگیاہے کہ فرشتے ان مادی اشیاء کے محتاج ہوتے ہیں۔حالانکہ یہ بات ایسی ہے جس کو دوسرے مقامات پر خود مسلمان بھی تسلیم نہیں کرتے۔حدیثوں میں صاف طور پر ذکر آتا ہے کہ جب جنین رحم مادر میں ہوتا ہے تو فرشتہ ماں کے پیٹ میں جاتا اور اس میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے(صحیح بـخاری کتاب القدر ابتدائیۃ)۔مگر کیا کسی نے دیکھا ہے کہ کبھی عورت کا پیٹ فرشتوں نے چاک کیا ہو؟ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ بے شک سب کام فرشتے کرتے ہیں مگر وہ پیٹ چاک کرنے کے محتاج نہیں ہوتے۔جب وہ وہاں چھریوں کی ضرورت تسلیم نہیں کرتے تو اس واقعہ کو کیوں ظاہری شکل دی جاتی ہے اور کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ ظاہری طور پر چاک کیے جانے پر زور دیا جاتا ہے؟ ہم مانتے ہیں کہ فرشتوں نے آپ کا سینہ چاک کیا اورہم یہ بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے دل کی صفائی کی مگر ہم ساتھ ہی یہ بھی مانتے