تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 192

ہیں اور ان کی ایسی تشریحات اور تفصیلات بیان کرتے ہیں جو پہلے کسی انسان نے بیان نہیں کیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ کو چاک کئے جانے کا واقعہ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی طرف حدیثوں میں اس رنگ میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چاک کیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی رشتہ داروں کی طرف سے روایت آتی ہے کہ بچپن میں جب آپ کو حلیمہ دائی پرورش کے لئے لے گئی تو ایک دن جبکہ آپ باہر کھیل رہے تھے آپ کا ایک رضاعی بھائی گھبراہٹ کی حالت میں دوڑا ہوا اپنی والدہ اور والد کے پاس آیا اور اس نے کہا اَلْـحِقَا اَخِیْ مُـحَمَّدًا فَـمَا تُلْحِقَانِہٖ اِلَّا مَیْتًاقُلْتُ وَمَا قَضِیَّتُہٗ قَالَ بَیْنَا نَـحْنُ قِیَامٌ اِذَا اَتَاہُ رَجُلٌ فَاخْتَطَفَہٗ مِنْ وَّسَطِنَا وَعَلَابِہٖ ذِرْوَۃَ الْـجَبَلِ وَ نَـحْنُ نَنْظُرُ اِلَیْہِ حَتّٰی شَقَّ صَدْرَہٗ اِلٰی عَانَتِہٖ وَلَا اَدْرِیْ مَا فُعِلَ بِہٖ (السیرۃ الحلیبۃباب ذكررضاعه صلى الله عليه وسلم وما اتصل به ) ہمارے بھائی پر کسی نے حملہ کرکے اسے ماردیا ہے۔حلیمہ دوڑتی ہوئی باہر گئی تو اس نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔حلیمہ نے آپ سے دریافت کیا کہ بتائو کیا ہوا تھا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تین آدمی آئے تھے انہوں نے میرا سینہ چیرا اور میرے دل کو دھو کر اندر رکھ دیا اور پھر چلے گئے۔روایتو ں میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ کے سینہ پر اس کا ایک نشان بھی تھا۔بعض دوسری روایتوں میں جو واقعہ معراج کے ساتھ تعلق رکھتی ہیںان میں بھی ذکر آتا ہے کہ ایک فرشتہ آیا اس نے آپ کے سینہ کو چیر کر دل نکالا آلائش صاف کی اور پھر دوبارہ اسے آپ کے سینہ میں رکھ دیا (الروض الانف الجزء الاوّل مسألۃ شق الصدر مرۃً اخرٰی)۔آنحضرت صلعم کا سینہ چاک کئے جانے کا واقعہ ایک کشفی واقعہ تھا مسلمان اس کوجسمانی معجزہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں جس رنگ میں مسلمان اس واقعہ کو پیش کرتے ہیں اگر وہ زیادہ غور سے دیکھتے تو یہ آپ کی شان کو بڑھانے والے معجزہ کی بجائے آپ کی تنقیص کرنے والا معجزہ بن جاتا ہے۔اوّل تو یہ سوال ہے کہ دل پر کون سی مادی آلائشیں ہوتی ہیں جنہیں صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جو لوگ جنوں اور بھوتوں کے قائل ہیں وہ بھی اتنی معقولیت سے کام لیتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ فلاں جن نے فلاں کا دیکھتے ہی کلیجہ کھالیا۔وہ جنات کی ماہیت کے لحاظ سے سمجھتے ہیں کہ انہیں چیرنے پھاڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی یونہی دیکھتے اور دوسرے کاکلیجہ نکال کر چبا جاتے ہیں۔اگر جنات کے متعلق بعض نہایت ضعیف الخیال لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جن پیٹ چیرنے کے محتاج نہیں ہوتے تو فرشتوں کے متعلق کیوں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ وہ چیرنے پھاڑنے کے محتاج ہیں۔