تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 191
یہاں دو غیر قیاسی اور بالکل غیر معمولی باتیں بیان کی گئی ہیں۔قرآن مجید ہر لحاظ سے کامل ہے اوّل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ کتاب نازل ہوئی جس میں ہر علم پربحث کی گئی تھی اور پھر جو بحث کی گئی وہ ایسی تھی کہ اپنی ذات میں ہر لحاظ سے کامل تھی اور اس میں کسی نئے پہلو کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔پس پہلی بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کتاب ملی جو جامع ہے تمام علوم کی۔یہ نہیں کہ وہ سیاست کے متعلق کتاب ہے یا انٹرنیشنل لاء کے متعلق کتاب ہے یا اخلاق کے متعلق کتاب ہے یا علم النفس کے متعلق کتاب ہے بلکہ ہر فن کے متعلق ہم اس میں تعلیم پاتے ہیں۔اس میں عبادت پر بھی بحث کی گئی ہے، اس میں اقتصادیات پر بھی بحث کی گئی ہے، اس میں استاد اور شاگرد، باپ اور بیٹا، نوکر اورمالک کے حقوق پر بھی بحثیں ہیں، اس میں حکومتوںکے تعلقات اور لڑائی اور صلح وغیرہ پر بھی بحث ہے۔غرض ایک غیر معمولی کتاب ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔مگر اس کے مقابلہ میں ایک اور ذمہ واری بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالی گئی کہ اس غیر معمولی کتاب کی تمام جزئیات آپ کے سینہ میں آکر درخت بن جائیں۔گویا قرآن ایک گٹھلی تھی جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں ایک بہت بڑا درخت پیدا ہونا تھا یہ اور بھی غیر معمولی بات ہے اور یہی بات ہے جو اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ میں بیان کی گئی ہے۔جس چیز کے لئے آپ کا شرح صدر ہوا وہ یہاں محذوف ہے جو سوائے قرآن کے اور کچھ نہیں۔گویا اصل آیت یوں ہے اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ لِلْقُرْآنِ۔اے محمدرسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم نے تیرا سینہ قرآن کے لئے نہیں کھول دیا؟ اگر خالی اس حد تک انسان چلتا ہے جس حد تک دلالۃ النص کے طور پر مضامین بیان کرنے پڑتے ہیں تب بھی یہ غیر معمولی بات ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہ صرف دلالۃ النص کے طور پر قرآن کریم سے مختلف قسم کے علوم اخذ کرکے بیان فرماتے ہیں بلکہ اشارۃ النص میں جو مضامین بیان ہوئے ہیں ان کو بھی بیان فرماتے ہیں اور پھر اُن کی ایسی ایسی باریکیاں بیان فرماتے ہیں جہاں عام انسانی عقول نہیں پہنچ سکتیں۔یہ ایک ایسی غیر معمولی چیز ہے جو سوائے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور اس کی خاص برکت کے انسان حاصل نہیں کرسکتا۔ہم دیکھتے ہیں بعض لوگوں نے صرف علم قرأت پر بحث کی ہے اور وہ بڑے بڑے عالم کہلاتے ہیں۔بعض صرف قرآن کریم کی لغت پر بحث کرتے ہیں اوروہ بڑے بڑے عالم کہلاتے ہیں۔بعض ایسے ہیں جنہوں نے صرف قرآن کریم کی قضاء پر بحث کی ہے اور وہ بڑے بڑے عالم کہلائے ہیں۔بعض ایسے ہیں جنہوں نے صرف قرآن کی اقتصادیات پر بحث کی ہے اور وہ بڑے بڑے عالم کہلائے ہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف یہ تمام جزئیات لیتے ہیں بلکہ ان کو پھیلاتے