تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 183
کی نرینہ اولاد نہ تھی) مجھے اپنا خلیفہ مقرر کردیں۔اس نے اپنی طرف سے سمجھوتہ کےلئے نہایت ہی نرم شرط آپ کے سامنے پیش کی۔ایک لاکھ سپاہی اس کی پشت پر تھا اور اس نے صرف یہ مطالبہ کیا کہ مجھے وفات کے بعد خلیفہ بنادیا جائے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یوں دیا کہ ایک تنکا اٹھایا اور فرمایاکہ خلافت تو الگ رہی یہ تنکا بھی تمہیں نہ دیاجائے گا اور میرے معاملہ میں وہی ہوگا جو خدا تعالیٰ چاہے گا یعنی وہی شخص خلافت کے مقام پر کھڑ اہوگا جس کو خدا تعالیٰ خود کھڑا کرنا چاہے گا۔تم ان معاملات میںدخل دینے والے کون ہو۔مسیلمہ غصہ اور ناراضگی کی حالت میں واپس چلاگیا اور اپنی قوم سمیت اسلام سے مرتد ہوگیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفات پاگئے تو وہ ایک لاکھ سپاہی اپنے ساتھ لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا اور اس نے ایسا شدید حملہ کیا جس کی پہلے کسی حملہ میں مثال نہیں ملتی۔صحابہؓ اس جنگ میں اس طرح مارے گئے جس طرح چنے بھونے جاتے ہیں اور وہ شکست کھاکر واپس لوٹ گئے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس شکست کا اتنا صدمہ ہوا کہ آپ نے سرداران لشکر کو حکم دے دیا کہ ان میں سے کوئی شخص آئندہ مدینہ میں میرے سامنے نہ آئے۔یہ سزا جو ان سرداران لشکر کو دی گئی بتاتی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس شکست کا کیسا صدمہ ہوا تھا( السیرۃ النبویۃ لابن ہشام :قـدوم بنی حنیفۃ ومعھم مسیلمۃ الکذاب)۔مگر باوجود اس کے خطرہ حقیقی تھا اور مسیلمہ اور اس کی قوم کا ارتداد بہت سی مشکلات کا موجب بن سکتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ذرا بھی پروا نہ کی۔ایک تنکا اٹھا کر کہا کہ تم خلافت مانگتے ہو تمہیں تو یہ تنکا بھی نہیں دیا جاسکتا۔یہ خدا تعالیٰ کی ایک امانت ہے اور اسی شخص کے پاس جائے گی جو اس امانت کا بہترین اہل ہو۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی شروع سے لے کر آخر تک اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کی صداقت کا ایک بیّن اور واضح ثبوت ہے۔ہر مقام پر آپ نے اس غیر متزلزل یقین کا ثبوت دیا جو آپ کو خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا اور یہی یقین تھا جو مسیلمہ کذاب والے واقعہ میں کام کررہا تھا۔آپ نے سمجھا جب خدا تعالیٰ کہہ رہا ہے کہ ابوبکر خلیفہ بنے گا تو مسیلمہ اس کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتا ہے۔آپ نے اس مطالبہ کو ردّ کردیا اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہ کی کہ اس کے نتیجہ میں کیا کیا مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میںنے جو مثالیں دی ہیں ان میں سے بعض اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کی ہیں۔لیکن میرا منشاء اس جگہ یہ بتانا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اس آیت کی صداقت کا ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔شروع سے لے کر آخر تک آپ کی زندگی سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ اسلام اور اس کی تعلیم کے لئے کھول دیا تھا اوروہ آخر تک کھلا رہا۔