تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 180

نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور بڑی دلیری سے کفار کے گھیرے میں سے نکل گئے۔اگر کوئی اور شخص ہوتا تو اس کے اوسان خطا ہوجاتے، اس کے قدم لڑکھڑا جاتے اور وہ سخت پریشان ہوتا کہ اب میں کیا کروں( السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: خروج النبی صلی اللہ علیہ وسلم و استخلافہ علیًّا علی فراشہ)۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہایت جرأت کے ساتھ دشمن کی قطار کے سامنے سے گزر گئے۔میں نے حضرت خلیفہ اوّلؓ سے سناہے آپ فرماتے تھے ایک روایت میں ہے کہ ان میں سے ایک شخص نے بعد میں بتایا کہ میں نے رات کو آپ کے مکان میں سے ایک شخص کو نکلتے تو دیکھا تھا مگر میں نے خیال کیاکہ یہ کوئی اور شخص ہوگا۔چنانچہ میں نے اسے دیکھ کر اپنامنہ پرے کرلیاتا ایسانہ ہو کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جاکر یہ بتادے کہ باہر قتل کے ارادہ سے کئی لوگ کھڑے ہیں (مجھے خود اب تک کسی کتاب میں یہ حوالہ نہیں ملا)۔اس کی وجہ یہی تھی کہ آپ بغیر کسی گھبراہٹ کے نہایت جرأت کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے تھے۔آپ کے قدم نہایت مضبوطی سے پڑ رہے تھے۔آپ کے چہرہ پر بشاشت اور اطمینان کے آثار تھے اوردشمن یہ خیال بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اتنی جرأت کے ساتھ گھر سے نکلنے والا وجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوسکتا ہے۔کوئی اور ہوتا تو دشمن کو دیکھتے ہی چکرا کر گر پڑتا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ذرا بھی پروا نہ کی کیونکہ آپ کے دل میں یہ یقین کامل تھا کہ کفار مجھے ہلاک نہیں کرسکتے۔خدا تعالیٰ کی حفاظت میرے ساتھ ہے اور وہ اپنے وعدہ کو بہرحال پورا کرے گا۔پس ہجرت عن الدار کا واقعہ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کی صداقت کا ایک اہم ثبوت ہے۔(۳) تیسرا واقعہ غار ثور کا ہے۔دشمن سر پر آ پہنچا ہے۔ابوبکرؓ گھبرارہے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا (التوبۃ:۴۰) گھبرانے کی کون سی بات ہے اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اس کی معیت کے ہوتے ہوئے یہ لوگ کیا کرسکتے ہیں۔چنانچہ وہ آتے ہیں اور خائب و خاسر چلے جاتے ہیں یہ کمال یقین ہی تھا کہ دشمن سر پر کھڑا ہے اس کی آوازیں کانوں میں پہنچ رہی ہیں مگر آپ فرمارہے ہیں لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا۔(۴) چوتھا واقعہ اُحد کا ہے۔اس جنگ میں ایک غلطی کی وجہ سے اکثر صحابہؓ میدانِ جنگ سے بھاگ گئے تھے۔دشمن تین ہزار کی تعداد میںتھا وہ حملہ کرتے ہوئے آگے بڑھا مگر باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بہت کم صحابہؓ تھے آپ دشمن کے ریلے کے باوجود اپنی جگہ سے نہیں ہلے اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آپ بالکل اکیلے رہ گئے اور یہی وہ وقت تھا جب آپ کے دندانِ مبارک شہید ہوئے اور خود بھی زخمی ہوکر ایک گڑھے میں جاگرے۔ایسے موقع پر طبعی طور پر انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ میں کسی پتھر کے پیچھے چھپ جائوںتاکہ دشمن