تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 176
علم الیقین کے بعد عین الیقین ہوتا ہے کہ انسان ایک بات خود دیکھتا ہے لیکن ایسے طور پر کہ شبہ کی گنجائش نہ ہو جیسے دور سے دھواں دیکھ کر آگ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔اس کے بعد کا درجہ حق الیقین کا ہے جیسے کہ کوئی شخص آگ میں انگلی ڈال کر اس کے جلانے والے اثرات کو خود دیکھ لیتا ہے۔انبیاء کو ان کے اپنے دعووں پر ایمان لانے کا حکم دینے کی وجہ ان تین مدارج میں سے سب سے مکمل درجہ حق الیقین کا ہے جس کے اندر شک و شبہ کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا اور یہی مقام رسولوں کو حاصل ہوتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوجہ سید الانبیاء ہونے کے سب سے زیادہ حاصل تھا۔اسی درجہ یقین کی وجہ سے جب بھی کوئی رسول آیا اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے یہی کہا کہ تو خود اپنے دعوے پر ایمان لا اور پھر اسے لوگوں کے سامنے پیش کر۔گویا الٰہی سنت جو سلسلہ انبیاء پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ پہلے خود نبی کے دل میں یقین پیدا کیا جاتا ہے اور پھر اُسے لوگوں کی ہدایت کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو قرآن کریم میں اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ (الانعام:۱۶۴) کے الفاظ آتے ہیںان کا مفہوم بھی یہی ہے کہ ہمارا پہلا کام تیرے دل میں یقین پیدا کرنا ہے۔اگر تیرے دل میں دُبدہ اور شک رہے گا تو تُو اس کام کے لئے وہ کوشش نہیں کرسکے گا جس کوشش کے بغیر یہ کام اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ غلطی سے اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ(الاعراف: ۱۴۴) یا اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ کہنے کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور وہ اعتراض کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ اپنے دعوے پر آپ ایمان لانے کے کیا معنے ہوئے۔وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اس یقین کے بغیر کوئی شخص دوسروں کوشکوک و شبہات سے نجات نہیں دلاسکتا۔وہی شخص دوسروں کے دل میں یقین پیدا کرسکتا ہے جس کے دل میں خود یقین موجود ہو اور وہی شخص دوسروں کو روحانی لحاظ سے منور کرسکتا ہے جس کے دل میں خود نورایمان موجود ہو اور انشراح صدر سے مراد یہ آخری قسم کا یقین ہی ہوتا ہے جو حق الیقین کہلاتا ہے اور اسی یقین کے پیدا کرنے کے لئے انبیاء کو اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ کہنے کا حکم دیا جاتا ہے۔درحقیقت بڑے کام بغیر اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَہونے کے ہوہی نہیں سکتے۔جو شخص اپنے کام کے متعلق یقین ہی نہیں رکھتا ایسا ٰیقین جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے منزہ ہو وہ دوسروں کو کیا ہدایت دے سکتا ہے۔پس اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ کہنا کوئی معمولی فقرہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑی دلیل ہے جس کا انبیا ء اور خدا تعالیٰ کے مقربین کی زبان سے اظہار ہوتا ہے۔یہی ایمان ہے جو دوسروں کے شکوک کو مٹاتا اور ان کو بھی یقین کی بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔آنحضرت صلعم اور حضرت موسٰی کے مقام میں ایک امتیاز پھر یہ بھی سوچو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو دعا