تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 14

غور کیا ہوتا ہے، اس سے پہلی رات بھی غور کیا ہوتا ہے اس سے پہلی رات بھی غور کیا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ خود بھی کئی باتیں بظاہر بھول گیا ہوتا ہے اور اسے اپنی حقیقت کا آپ بھی پورا علم نہیں رہتا لیکن خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ا س کے اندر کیا کیا حقیقتیں پیدا ہوچکی ہیں۔درحقیقت ہر انسان میں ایک ملکۂ ظہور ہوتاہے اور ایک اس کے اندر بالقوۃ طاقتیں ہوتی ہیں۔اگر تم سے کوئی پوچھے کہ تم اردو کے کتنے الفاظ جانتے ہواور تم گننے لگو تو تم پچاس ساٹھ یا سو سے زیادہ الفاظ شمارنہیں کر سکو گے لیکن اگر تمہارے سامنے کوئی کتاب رکھ دی جائے تو تم کہو گے کہ میں یہ الفاظ بھی جانتا ہوں اور وہ الفاظ بھی جانتا ہوں تو اپنی قابلیتوں کا انسان خود بھی اندازہ نہیں کر سکتا کجا یہ کہ وہ دوسروں کی قابلیتوں کا اندازہ لگا سکے۔تم سورج کے سامنے مختلف درجہ کی صفائی کی چیزوں کو رکھ دو تو گو ان سب پر سورج کی پوری روشنی ہی پڑے گی مگر صفائی کے مختلف مدارج کی وجہ سے ہر چیز کے لحاظ سے اس کی روشنیاں بالکل الگ الگ ہوں گی حالانکہ سورج کی ذاتی روشنی تو ایک ہی ہے اسی طرح لیمپ کی ایک تو وہ روشنی ہے جو اس کے اندر جلنے والے تیل کی نسبت سے پیدا ہوتی ہے وہ ایک ہی درجہ کی ہے لیکن ایک وہ روشنی ہے جو مختلف چیزوںپر پڑ کر اپنے حجم اور اپنی وسعت کو بدلتی چلی جاتی ہے۔یہی مضمون اس جگہ بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَ الشَّمْسِ ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں سورج کو وَ ضُحٰىهَا اور اس کی اس روشنی کو جو اس کی ذاتی روشنی ہے۔وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ۰۰۳ اور چاند کی جب وہ اس (یعنی سورج) کے پیچھے آتا ہے۔حلّ لُغات۔تَلٰىهَا تَلَا فُلَانًا(تُلُوًّا) کے معنے ہیں تَبِعَہٗ اس کا پورا تابع ہو گیا (اقرب) اس آیت کی مفسرین نے مختلف تشریحات کی ہیں بعض نے کہا ہے کہ اتباع کے یہ معنے ہیں کہ جس وقت سورج ڈوبے معاً اس کی جگہ چاند روشنی دینے لگے اور یہ مہینہ کی پہلی پندرہ تاریخوں میں ہوتا ہے۔(تفسیر زاد المسیر سورۃ الشمس زیر آیت وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا) بعض نے کہا ہے کہ تابع کے معنے یہ ہیں کہ سورج کی سب روشنی اور نور اس نے لے لیا اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ چاند پورا ہو جائے یعنی چودھویں پندرھویں سولھویں تاریخوں کا چاند(فتح القدیر سورۃ الشمس زیر آیت وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا)۔اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب سورج چڑھے اس وقت یہ ساتھ چڑھے تو یہ