تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 175

یقین کے تین مراتب قرآن کریم نے یقین کے مختلف مدارج بیان کئے ہیں یوں تو اس کے ہزاروں مدارج ہیں مگر موٹے موٹے تین مدارج ہیں۔علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں میں جو خاص اصولی مضامین ہیں ان میں سے ایک یہ بھی مضمون ہے جو مراتب یقین کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۰۲)۔میں یہ نہیں کہتا کہ پہلے صوفیاء کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں۔پہلے صوفیا ء کی کتابوں میں بھی بے شک اس کا ذکر ملتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مضمون میں جو جدتیں پیداکی ہیں وہ ان لوگوں کی تشریحات میں نہیں ہیں۔بعض لوگ اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کردیا کرتے ہیں کہ یہ باتیں تو امام غزالی کی کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں یا فلاں فلاں مضامین انہوں نے بھی بیان کئے ہیں۔جیسے ڈاکٹر اقبال نے کہہ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس قسم کے مضامین صوفیاء کی کتابوں سے چرائے تھے۔حالانکہ اگر غوروفکر سے کام لیا جائے تو دونوں کے تقابل سے معلوم ہوسکتا ہے کہ انہوںنے مضمون میں وہ باریکیاں پیدا نہیں کیں جو ایک ماہر فن پیدا کیا کرتا ہے اور نہ مضمون کی نوک پلک انہوں نے نکالی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس مضمون کو بھی لیا ہے ایک ماہر فن کے طور پر اس کی باریکیوں اور اس کے خدوخال پر پوری تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور کوئی پہلو بھی تشنہء تحقیق رہنے نہیں دیا اور یہی ماہر کا کام ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے نمایاں کام کرکے دکھادیتا ہے۔مثلاً تصویر کھینچنا بظاہر ایک عام بات ہے ہر شخص تصویر کھینچ سکتاہے میں بھی اگر پنسل لے کر کوئی تصویر بنانا چاہوں تو اچھی یا بری جیسی بھی بن سکے کچھ نہ کچھ شکل بنادوں گا۔مگر میری بنائی ہوئی تصویر اور ایک ماہر فن کی بنائی ہوئی تصویر میں کیا فرق ہوگا؟ یہی ہوگا کہ ماہر فن اس کی نوکیں پلکیں خوب درست کرے گا اور میں صرف بے ڈھنگی سی لکیریں کھینچ دینے پر اکتفا کروں گا۔پس کسی مضمون کا خالی بیان کردینا اور بات ہوتی ہے اور اس کی نوک پلک درست کرکے اسے بیان کرنا اور بات ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گو بعض جگہ وہی مضامین لئے ہیں جو پرانے صوفیاء بیان کرتے چلے آئے تھے مگر آپ کے بیان کردہ مضامین اور پہلے صوفیاء کے بیان کردہ مضامین میں وہی فرق ہے جو ایک اناڑی اور ماہر مصور کی بنائی ہوئی تصاویر میں ہوتا ہے۔انہوں نے تصویر اس طرح کھینچی ہے جیسے ڈرائنگ کا ایک طالب علم کھینچتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تصویر اس طرح کھینچی ہے جیسے ایک ماہر فن تصویر کھینچ کر اپنے کمالات کا دنیا کے سامنے ثبوت پیش کرتا ہے اور پھر ہر بات پر قرآن کریم سے شواہد پیش کرکے بتایا ہے کہ اس مضمون کا بتانے والا قرآن کریم ہے۔