تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 171

تمہارے گھر میں گوشت نہیں پہنچایا۔مطلب یہ ہوگا کہ میں نے تمہارے گھر میں گوشت پہنچادیا ہے اور تمہیں خود بھی اس بات کا علم ہے کہ گوشت پہنچ گیا ہے۔پس ’’کیا ا یسا نہیں کیا‘‘ کے فقرہ سے یہ زائد معنے پیدا ہو جاتے ہیں کہ یہ بات ایسی پختہ ہے کہ مخاطب بھی اس بات کی تصدیق کرے گا اور کہے گا کہ ہاں یہ بات واقعہ میں درست ہے میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ یہ واقعہ ہوگیا ہے۔اَلَمْ نَشْرَحْ کے فقرہ میں تصدیق مخاطب پس اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اپنے اندر تصدیق مخاطب کا مضمون بھی رکھتا ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ مخاطب اس علم میں ہمارا شریک ہے وہ اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اے محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیا ہم نے تیرا سینہ اس طرح نہیں کھولا کہ تو خود بھی اس بات کی گواہی دے گا اور تجھے علم ہے کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے۔یہ جملہ کہ یہ بات ظاہر ہے اور اس کا انکار نہیں ہو سکتا کہ تیرا سینہ کُھل چکا ہے۔ہے تو ایک معمولی جملہ مگر اس کے اندر وسیع مطالب پائے جاتے ہیں۔شَـرَحَ کے معنے حل لغات میں بتائے جا چکے ہیں کہ (۱) کھولنے (۲) پھیلانے (۳) سمجھانے (۴) محفوظ کر دینے (۵) اچھی طرح بیان کر نے کے ہیں۔ان معنوں کے رو سے آیت کے ایک تو یہ معنے ہوں گے کہ کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا۔یعنی اس بات کو تو بھی جانتا ہے اور دوسری دنیا بھی جانتی ہے کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے۔سینہ کھولنے کے معنے جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے مادئہ قبولیت کے پیدا ہو جانے کے ہیں اور چونکہ یہ محاورہ اچھے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اچھی باتوں کی قبولیت کے لئے دل آما دہ رہتا ہے یا کسی خاص معا ملہ کے متعلق دل تسکین پا لیتا ہے اُسے اس بات پر یقین کامل ہو جاتا ہے تو اسے شرح صدر کہتے ہیں۔جب یقین ایسے کمال کو پہنچ جائے کہ اس میں معجزانہ رنگ پیدا ہو جائے۔تو اُسے خدا تعالیٰ کی طرف سے شرح صدر کہتے ہیں اور جب ایسے امور کے متعلق یقین ہو جو غیبی ہوں اور جن پر یقین پیدا ہونا الٰہی تصرف کے نتیجہ میں ہو سکتا ہو تو اسے بھی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور انکار ابطالی کا استعمال جو درحقیقت اثبات پر دلالت کرتا ہے۔یہ بتاتاہے کہ وہ امر پوشیدہ نہیں بلکہ اس کی حقیقت ظاہر و باہر ہو چکی ہے۔ان معنوں کے رو سے اس آیت کہ یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صداقتوں اور نیکیوں کو ماننے اور اُن پر عمل کرنے کے لئے بہت بشاشت قلب عطا فرمائی تھی اور وہ امور سماویہ جو امور غیبیہ پر مشتمل تھے اُن پر بڑا زبردست یقین بخشا تھا اور یہ دونوں امر بار بار اس طرح ظاہر ہو چکے تھے کہ آپ کے مخالفوں کو بھی اُن کے انکار کی جرأت نہیں ہو سکتی تھی۔اور اگر یہ تینوں باتیں کسی شخص میں پائی جائیں تو اوّل تو یہ اس کی سچائی کا ثبوت ہوتی