تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 168

محسوس کی۔اسی طرح ان علوم کے پروفیسر بھی اپنی منگیتروں یا بیویوں کو جب وہ جدا ہوں یہی لکھیں گے کہ YOU ALWAYS LIVE IN MY HEART تم ہر وقت میرے دل میں رہتی ہو یہ کبھی نہیں لکھے گا کہ YOU ALWAYS LIVE IN MY HEAD۔بلکہ اگر وہ لکھ دے تو شاید منگنی ہی ٹوٹ جائے اور منگیتر اسے پاگل سمجھنے لگ جائے۔پس جب ہر شخص روزانہ اپنی زبان میں اس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس پر اعتراض نہیں ہوتا اورنہیں ہوسکتا تو یہ کیا حماقت کی بات ہے کہ مذہبی کتب پر زبانوں کے محاوروں کی وضع کی وجہ سے لوگ اعتراض شروع کردیتے ہیں۔جنہوںنے وہ محاورے بنائے ہیں جاکر ان سے سوال کریں۔مذہبی کتاب تومجبور ہے کہ ان محاوروں کی اتباع کرے ورنہ اُس کے مخاطبین اُس کی بات ہی نہ سمجھیں گے اور وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے گی۔دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ مثلاً ایک عرب قلب کا لفظ اُن معنوں میں استعمال کرتاہے یا نہیں جن معنوں میں تشریح الابدان کے ماہرین دماغ کالفظ استعمال کرتے ہیں۔اگر کرتا ہے تو محض قلب کے لفظ کے استعمال پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کریم کو دماغ کا لفظ بولنا چاہیے تھا قلب کا لفظ اس نے کیوں بولا۔یا مثلاً یہ تو سوال ہوسکتا ہے کہ سینہ کا کھل جانا یا اُس کا تنگ ہوجانا عربی زبان میں محاورہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے یا نہیں۔اگر ہوتا ہے تو قرآن کریم کے لئے صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری تھا کہ وہ ان محاورات کو استعمال کرتا کیونکہ اگر وہ ان محاورات کو استعمال نہ کرتا تو لوگ سمجھتے کیا خاک؟ آج علمی زمانہ ہے۔سائنس کی ترقی اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ماہرین تشریح الابدان بال کی کھال اتارچکے ہیں۔مگر آج بھی لوگ یہی کہتے ہیں کہ میرے دل میں تمہاری محبت ہے۔اگر کوئی شاعر ان الفاظ کی بجائے یہ کہہ دے کہ میرے دماغ میں تمہاری محبت ہے تو سب لوگ قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں گے کہ پاگل ہوگیا ہے۔حالانکہ واقعہ یہی ہوتا ہے۔مگر چونکہ زبان نے اس غرض کے لئے دل کا لفظ وضع کیا ہوا ہے اس لئے جب وہ محاورۂ زبان کے خلاف دماغ کا لفظ استعمال کرے گا سب لو گ ہنس پڑیں گے کہ بڑا احمق انسان ہے حالانکہ طبی طور پر وہ درست کہہ رہا ہوگا۔پس ہمیں اس سے کوئی تعلق نہیں کہ تشریح الابدان کے ماہرین کیا کہتے ہیں۔ہم زبان کو دیکھیں گے کہ اُس میں کیا الفاظ رائج ہیں۔جو کچھ زبان میں الفاظ رائج ہوں گے انہی کا استعمال فصاحت ہوگا۔اگر اس کے خلاف کوئی اور الفاظ استعمال کئے جائیں گے تو وہ معیار فصاحت سے بالکل گر جائیں گے۔تفسیر۔اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ میں گو الفاظ استفہامی یعنی سوالیہ استعمال کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ کیا ہم نے تیرے سینہ کو نہیں کھولا؟ مگر مفہوم یہ ہے کہ تو جانتا ہے ہم نے تیرے سینہ کو کھول دیا ہے ایسے