تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 161

کے احسانات کا شکر ادا کرے اور اس کے پیہم فضلوں کو دیکھ کر سجدات شکر بجا لائے اور زبان کو اس کی حمد سے تر رکھے۔دوسرا طریق تحدیث نعمت کا یہ ہوتاہے کہ لوگوں میںاللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا فضل کیا۔فرماتا ہے ہم نے جونعمتیں تجھے عطا کی ہیں اُن کا خود بھی شکر ادا کرو اور اپنے رب کی ان نعمتوں کا لوگوں میں بھی خوب چرچا کرو۔یا خدا تعالیٰ نے جو نعمتیں تجھے دی ہیں ان سے خود بھی فائدہ اٹھائو اور اپنے جسم پر اُن کے آثار کو ظاہر کرو اور کچھ حصہ صدقہ و خیرات کے طور پر لوگوں میںبھی تقسیم کرو۔اس سورۃ کے آخر میں جو تین باتیں بیان کی گئیں ہیں۔یہ پہلی بیان کر دہ تین باتوں کے مقابل میں ہیں۔پہلے فرمایا تھا۔(۱) اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى (۲) وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى (۳) وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰى۔تم یتیم تھے ہم نے تمہیں پناہ دی۔تم ہماری محبت اور اپنی قوم کی نجات کے طالب تھے ہم نے تمہیںاپنی محبت بھی عطا کر دی اور قوم کی نجات کا سامان بھی عطا کر دیا۔اسی طرح تم روحانی اور جسمانی یتامیٰ سے گھرے ہوئے تھے ہم نے دونوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا سامان تجھے دے دیا۔اب تیرا بھی فرض ہے کہ تو یتامیٰ سے ایسا سلوک نہ کر جو ان کی طاقتوں کو توڑ نے والا ہو۔تو ہماری محبت کے سائلوں کو جو تیرے دروازہ پر آئیں کبھی مایوس مت لوٹا بلکہ جس طرح ہم نے تیری مرادیں پوری کی ہیں تو ان کی مرادوں کو پورا کر۔اور پھر یہ بھی دیکھ کہ ہم نے تجھے عائل بنایا تھا پھر تجھے غنی کر دیا۔اب تمہارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے تجھ پر جو احسانات کئے ہیں ان کا تو شکر ادا کر۔ہماری نعمتوں سے خود بھی فائدہ اٹھا اور لوگوں میں بھی ان نعماء کو تقسیم کر۔یہ اسلامی تعلیم نہیں ہے کہ انسان کو اگر کوئی نعمت ملے تو وہ اسے رد کر دے اور اس سے فائدہ نہ اٹھائے۔بد قسمتی سے مسلمانوں کے ایک طبقہ میں روحانیت کا مفہوم نہ سمجھنے کے نتیجہ میںیہ خیال پیدا ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعماء کا استعمال روحانیت کے خلاف ہے۔اچھا کھانا کھانا یا اچھا کپڑ اپہننا یا اعلیٰ درجہ کی اشیاء سے فائدہ اٹھانا روحانی لوگوں کا کام نہیں ہو سکتا۔مگر یہ لوگوں کی خودساختہ روحانیت ہے اسلام اور عرفان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔الٰہی حکم یہی ہے کہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۔انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی نعمت ملے وہ اس سے خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے۔کاہنوں کی طرح ان نعمتوں کو رد نہ کردے۔اس آیت کے روحانی لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے جو تعلیم تجھے عطا کی ہے اس پر خود بھی عمل کرو اور دوسروں سے بھی عمل کرائو اور جسمانی لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے جو نعمتیں تجھے دی ہیں ان سے خود بھی فائدہ اٹھائو اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائو۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر