تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 156
جسمانی یتامیٰ و مساکین نہیں بلکہ روحانی یتامیٰ و مساکین بھی مراد ہیں۔جسمانی غرباء اور یتیم جو اُس وقت پائے جاتے تھے۔اُن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو تڑپ پائی جاتی تھی اور جس قدر ہمدردی اور محبت آپؐکے قلب میں اُن کے متعلق موجود تھی اس کی مثال دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔بے انتہا تڑپ، بے انتہا ہمدردی اور بے انتہا محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دل میںقوم کے غرباء اور یتامیٰ کے متعلق پائی جاتی تھی۔آپؐان کے حالات کو دیکھتے تو بے تاب ہو جاتے۔آپؐکے دن بے چینی میں اور راتیں اضطراب میں کٹتیں۔محض اس وجہ سے کہ غرباء کا کوئی سہارا نہ تھا۔یتامیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔مساکین کی طرف کوئی توجہ کرنے والا نہ تھا۔اللہ تعالیٰ جو آپؐکے دل کے اسرار سے آگاہ تھا۔اس نے جب آپؐکی اس بے انتہا اور غیر معمولی تڑپ کو دیکھا تو آپؐکی ان پاکیزہ خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اس نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دل میں یہ تحریک پیدا فرما دی کہ میں اپنا سب مال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وقف کر دوں۔چنانچہ شادی کے بعد انہوں نے اپنا سب مال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد فرما دیا اور آپؐکو اختیار دے دیا کہ آپؐاس روپیہ میں جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےشک خود غریب تھے مگر چونکہ غرباء کو دیکھ دیکھ کر آپؐکا دل دکھتا تھا اور آپ ان کی غربت کو دور کرنے کا اپنے پاس کوئی سامان نہ پاتے تھے اس لئے جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال آپؐکے قدموں پر نثار کر دیا تو آپؐکو اپنی خواہشات کے برلانے اور آرزوؤں کو پورا کرنے کا موقع میسر آگیا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ہزاروں روپیہ رکھنے والی خاتون نہیں تھیں بلکہ لاکھ پتی خاتون تھیں۔مستقل طور پر ان کی طرف سے متعدد قافلے تجارت کے لئے شام کی طرف آتے جاتے تھے اور یہ وسیع کاروبار وہی شخص کر سکتا تھا جو اپنے پاس لاکھوں روپیہ رکھتا ہو۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضرت خدیجہ ؓ کی اس عدیم المثال قربانی کے نتیجہ میں دولت کے ڈھیروں ڈھیر مل گئے تو آپ ؐ نے وہ تمام اموال قوم کے غرباء اور یتامیٰ و مساکین میں تقسیم کر کے اپنے دل کو ٹھنڈاکر لیا۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ بھی ہیں کہ جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ آپؐکو خدا تعالیٰ کا وصال حاصل ہو۔الٰہی قرب میں آپؐکو جگہ ملے اور اس کا الہام آپؐپر نازل ہو۔اسی طرح عرب کی سرزمین میں خدا تعالیٰ کے کچھ اور بندے بھی اپنے رب کی محبت اور اس کے پیار کے لئے تڑپ رہے تھے۔وہ بھی آرزو رکھتے تھے کہ ہمارا خدا ہم سے مل جائے۔اس کا وصال ہمیںمیسر آئے۔اس کی محبت کی گود میں ہم جا