تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 151
چالیس سال تک رہا ہوں اور تم میری زندگی کو دیکھتے چلے آئے ہو اگر تم میں ہمت ہے تو تم سب کے سب مل کر میری ابتدائی چالیس سالہ زندگی کا کوئی ایک عیب ہی ثابت کر کے دکھا دو مگر یاد رکھو تم ایسا کبھی نہیںکر سکو گے کیونکہ میری زندگی بالکل بے عیب ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کے گناہ سے آج تک محفوظ رکھا ہے۔اب بتائو کہ ہم یہ دوسرے معنے بھی کس طرح کر سکتے ہیں؟ شریعت سے انحراف والی بات تو اس لحاظ سے بالبداہت باطل تھی کہ اس وقت آپ کی قوم کے پاس کوئی شریعت کی کتاب تھی ہی نہیں جس سے انحراف کرنے کا الزام آپ پر عائد ہو سکتا۔باقی رہا اخلاق میں کسی قسم کے نقص کا ہونا سواس کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم میں دعویٰ موجود ہے کہ میں تم میں ایک لمبا عرصہ رہ چکا ہوں تم میری اس زندگی کا کوئی ایک عیب بھی ثابت نہیں کر سکتے۔اس چیلنج کے یہ معنے نہیں تھے کہ میں تم میں ایک لمبا عرصہ رہ چکا ہوں بتائو میں نے قرآن کے احکام پر اس زندگی میں عمل کیا تھا یا نہیں؟ کیونکہ قرآن کریم تو اس دعویٰ کے وقت میں نازل ہونا شروع ہوا ہے پہلے تو قرآن کریم تھا ہی نہیں۔پس اس آیت میں ہدایت ِ طبعی کی طرف اشارہ ہے نہ کہ ہدایت شرعی کی طرف اور اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ تو لوگوں کو چیلنج دے اور ان سے کہہ کہ وہ بتائیں کہ کیا میری چالیس سالہ زندگی میں کوئی ایک دن بھی ایسا آیا جب میں نے ہدایت طبعی یعنی اخلاق کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہو جب کوئی ایک برائی بھی تم میری طرف منسوب نہیںکر سکتے، جب کوئی ایک بدی بھی تم میرے اندر ثابت نہیں کر سکتے تو اب کس طرح کہتے ہو کہ میں برا ہوں۔غرض ان میں سے کوئی معنے بھی ایسے نہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں ہو سکتے ہوں۔جہاں تک ہدایت شرعی کا تعلق ہے عیسائی بھی تسلیم کر تے ہیں کہ نزول قرآن سے قبل اہل مکہ کے پاس کوئی شرعی قانون نہیں تھا اور جب وہ کسی شریعت کے پابند ہی نہیں تھے تو وَجَدَكَ ضَآلًّا کے یہ معنے کس طرح ہو سکتے ہیںکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شریعت سے منحرف ہو گئے تھے۔دوسرے معنے ہدایت طبعی سے انحراف کے ہو سکتے ہیں مگر وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں نہیں ہو سکتے کیونکہ قرآن کریم میں آپ کی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی زندگی کے متعلق چیلنج موجود ہے اور لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے بےعیب زندگی بسر کی تھی۔جب دونوں معنے آپ پر چسپاں نہیں ہوسکتے تو دشمنانِ اسلام کااس آیت کے یہ معنے کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نعوذ باللہ گمراہ ہو گئے تھے اس مقام پر کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ وَجَدَكَ ضَآلًّا تو خدا تعالیٰ کی گواہی ہے لیکن فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ اپنی ذات کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی گواہی ہے ان دونوں گواہیوں میں سے بہر حال خدا تعالیٰ کی گواہی کو مقدم قرار دیا جائے گا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی