تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 149
اپنی محبت اور اپنا فیضان تجھ کو عطا کیا اور تجھے ایسی تعلیم عطا کی جو مکہ والوں کو قعر مذلت سے اٹھا کر ترقی کے بلند تر مینار پر پہنچا نے والی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک دعویٰ تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کیا جا رہا تھا مگر دعویٰ وہ تھا جسے پرکھا جا سکتا تھا۔قرآن کریم لوگوں کے سامنے موجود تھا اور انہیں کہا جا سکتا تھاکہ آئو اور دیکھو کہ اس میںقوموں کو اُبھارنے والی تعلیم موجود ہے یا نہیں اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب اور آپ کے تعلق باللہ کو وہ آپؐکی دعائوں اور آپ کے نشانات کے ذریعہ دیکھ سکتے تھے۔غرض نہ وہ اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى کی صداقت کا انکار کرسکتے تھے اور نہ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى کی صداقت کا انکار کر سکتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان دو مثالوںکو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب کہ تیری جسمانی پرورش بھی ہم نے کی اور تیری روحانی پرورش بھی ہم نے کی اور ہر قدم پر تیرے ساتھ اپنی تائید رکھی۔تُو جسمانی توجہ کا محتاج تھا تو ہم نے تیری جسمانی پرورش کی طرف توجہ کی۔تُو روحانی توجہ کا محتاج تھا تو ہم نے تیری روح پر شفقت کی نظر ڈالی۔جب ہماری محبت تیرے دل میں پیدا ہوئی تو ہم نے تجھے اپنا چہرہ دکھا دیا اور جب بنی نوع انسان کی محبت تیرے دل میںپیدا ہوئی اور ان کی خرابیوں نے تجھے بےچین کر دیا تو ان کی اصلاح اور حالات کی درستی کے لئے اپنی شریعت تجھ پر نازل کر دی۔جب ہم اپنی محبت اور اپنے سلوک کا اس قدر نمونہ تیری ذات میںدکھا چکے ہیںتو یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آئندہ ترقیات اور ضُـحٰی کے متعلق جو خبر دی گئی ہے وہ بھی پوری ہو کررہے گی۔جس خدا نے تجھے پیچھے نہیںچھوڑا وہ آئندہ تجھے کس طرح چھوڑ سکتا ہے؟ اس بات کا ثبوت کہ وَجَدَكَ ضَآلًّامیں ضَالٌّ کے معنے گمراہ ہوجانے کے نہیں یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ وجہ کیا ہے کہ ضَلَال کے ا ورمعنے تو لے لئے گئے ہیں مگر ایک معنوںکو بالکل ترک کر دیا گیا ہے۔ضَلَال کے ایک معنے گمراہ ہوجانے، خرابی میںمبتلا ہو جانے اور رستہ کو چھوڑ دینے کے بھی ہیںمگر ان معنوںکو چھوا تک نہیں گیا۔کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ہم اس آیت کے یہ معنے کیوں نہ کر لیںکہ اس نے تجھے گمراہ پایا تھا پھر اس نے تجھے ہدایت دے دی۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معنے اس لئے چھوڑے گئے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ معنے یہاں چسپاں نہیں ہوسکتے۔دشمن اس آیت کے یہ معنے کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جادۂ اعتدال سے یا جادۂ شریعت سے اِدھر اُدھر ہو گئے تھے۔یہ معنے خواہ لغتاً صحیح ہوں ہمارے نزدیک اس مقام پر کسی صورت میںبھی چسپاں نہیںہو سکتے اور اس کی یہ وجہ ہے کہ ہدایت ہمیشہ دو قسم کی ہوتی ہے ایک ہدایت شرعی اور ایک ہدایت طبعی یا فطری۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ تم یہ معنے کیوںنہیںکرتے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم