تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 146

عیسائی بھی موجود تھے اور یہودی بھی موجود تھے اور یہ دونوں قومیں وہ ہیں جن کے پاس خدا تعالیٰ کا کلام موجود تھا مگر باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ان کے پاس تھا انہیں خدا تعالیٰ کی طرف کوئی توجہ نہیں تھی اور وہ اس سے کلی بیگانگت کی حالت میں اپنی زندگی کے ایام بسر کر رہے تھے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس خدا تعالیٰ کا کوئی کلام نہیں تھا مگر پھر بھی آپ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ تھے۔پس یہ امر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کی بلندی اور آپؐکی عظمت کا ایک بیّن ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام اپنے پاس رکھنے والے تو خدا تعالیٰ سے دور ہو گئے مگر جس کے پاس خدا تعالیٰ کا کوئی کلام نہیں تھا وہ خد ا تعالیٰ کے قریب ہوتا چلا گیا۔جب خدا تعالیٰ نے دیکھاکہ یہ وہ شخص ہے جو ہماری طرف آنا چاہتا ہے مگر اسے ہمارے قرب اور وصال کے راستوں کا علم نہیں ہے تو اس نے آپ پر شریعت نازل کر دی اور اس طرح تمام راستوں کو آپؐپرمنکشف کر دیا۔آپؐکا پہلے اس کوچہ سے ناواقف ہونا ہر گز قابل اعتراض امر نہیں۔ہر صاحب شریعت نبی پر جب خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہوتی ہے تب اسے شرعی راستہ کا علم ہوتا ہے اس سے پہلے وہ اُس راستہ سے واقف نہیں ہوتا۔یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ہمارے راستے کا علم نہیں تھا پھر ہم نے اپنے فضل سے تجھے وہ راستہ دکھا دیا جس کی جستجو تیرے دل میں پائی جاتی تھی۔وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى کے دوسرے معنے ضَلَّ کے ایک معنے خَفِیَ وَ غَابَ کے بھی بتائے جا چکے ہیں اُن معنوں کے لحاظ سے اس آیت میں خدا تعالیٰ اپنی قدرت اور مہربانی کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ضُـحٰی آئے گی۔بڑی بڑی ترقیات اسلام اور مسلمانوں کو حاصل ہوں گی اور لوگ تیرے متعلق کہیں گے واہ وا کیا خوب آدمی تھا۔کتنے بڑے کمالات اپنے اندر رکھتا تھا، کتنے بڑے فضائل اور محاسن کا مالک تھا۔کس طرح اس نے دنیا میں ایک عظیم الشان تغیّر پیدا کر دیا اور بھولی بھٹکی مخلوق کو خدا تعالیٰ کے آستانہ پر لاڈالا۔مگر ہم ان سے کہتے ہیں وہ غور کریں اور سوچیںکہ آخر تجھے کس نے چنا۔کس نے دنیاکی ہدایت کے لئے تیرا انتخاب کیا، کون تھا جو تجھے گوشۂ گمنامی سے دنیا کے سامنے نکال کر لایا۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہماری نظر ہی تھی جس نے تجھے منتخب کیا۔ہم نے دیکھا کہ ایک قیمتی موتی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل پڑا ہے لوگ اس کی قدر وقیمت سے نا آشنا ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کس قدر آب و تاب رکھنے والا ہے۔ہم نے کان میں سے اس موتی کو نکالا اور اُسے دنیا کے سامنے لا رکھا۔ہم نے کفرستان میں ایک ہیرا پڑا ہوا دیکھا ایسا ہیرا جس کا کوئی ثانی نہیں تھا ہم نے کفرستان میں سے اس ہیرے کو اٹھایا اور انسانیت کے تاج میں لگا لیا۔آج تیری چمک کو دیکھ کر دنیا کی