تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 144
ضرورت محسوس ہوتی تھی اللہ تعالیٰ نے ابوبکرؓ اور حکیم بن حزام جیسے دوست آپؐکو عطا فرما دیئے۔ابو بکرؓ تو شروع میںہی اسلام لے آئے مگر حکیم بن حزام مدتوں کافر رہا مگر کفرکی حالت میںبھی جب لوگ آپؐکی مخالفت کرتے تو وہ ان کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو جاتا۔ایک دفعہ وہ باہر تجارت کے لئے گیا تو وہاں اس کو ایک خاص قسم کا کپڑا ملا وہ کپڑا اسے بہت پسند آیا اور اس نے دل میںکہا کہ اس کپڑے کو پہننے کے قابل میرے دوست محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے زیادہ کوئی اہل نہیں۔چنانچہ وہ کپڑا لے کر مدینہ پہنچا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے یہ کپڑا بڑا پسند آیاتھا میںآپ کے لئے لے آیا ہوں کیونکہ آپ کے سوا یہ کسی کو نہیںسج سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میںکافر کا تحفہ قبول نہیں کر سکتا ہاں اگر چاہو تو مجھ سے قیمت لے لو۔اس نے کہا اچھا اگر آپؐتحفہ قبول نہیںفرماتے تو قیمت ہی دے دیں کیونکہ میری خواہش یہی ہے کہ آپؐاس کپڑے کو پہنیں ( جمھرۃ نسب قریش وَ اَخْبَارِھَا تَـحْتَ حکیم بن حزام بن خویلد) یہ کتنا عشق ہے جو ایک کافر کے دل میں آپؐکے متعلق تھا اس نے اپنے مذہب کو نہیں چھوڑا مگر کفر کی حالت میں بھی آپؐسے اس قدر پیار تھا کہ سب سے اچھی چیز جو ملی اس کا مستحق آپؐکو قرار دیا اور تیرہ منزلیںمارتا ہوا مکہ سے مدینہ پہنچا تا آپؐکی خدمت میں وہ تحفہ پیش کر ے۔خدا تعالیٰ نے اس کو کافر رکھا اور دیر تک رکھا۔شاید یہ ثابت کرنے کے لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی وجہ سے لوگ آپؐسے محبت کرتے تھے کسی اور وجہ سے نہیں۔پھر غلاموں میں سے زیدؓ اور رشتہ داروں میں سے علیؓ۔غرض اللہ تعالیٰ نے آپؐکو ایسے ساتھی دیئے جو کسی یتیم کو ملنے ناممکن ہوتے ہیں۔وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى ۪۰۰۸ اور (دیکھ تو کہ جب) اس نے تجھے (اپنی قوم کی اصلاح کی فکر میں) سرگردان پایا تو صحیح راستہ بتا دیا۔حلّ لُغات۔ضَآلًّا ضَآلًّا : ضَلَّ سے اسم فاعل ہے اور ضَلَّ الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں۔ضِدُّ اِھْتَدٰی اَیْ جَارَ عَنْ دِیْنٍ اَوْ حَقٍّ اَوْطَرِیْقٍ۔وہ دین یا سچائی کے راستہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر چلا گیا یا اصل راستہ سے اِدھر اُدھر ہو گیا نیز ضَلَّ فُلَانٌ الطَّرِیْقَ وَعَنِ الطَّرِیْقِ کے معنے ہیں لَمْ یَـھْتَدِ اِلَیْہِ۔اُسے راستہ کا پتہ نہ لگا وَکَذَاالدَّارَ وَالْمَنْـزِلَ وَکُلَّ شَیْءٍ مُّقِیْمٍ لَّا یُـھْتَدٰی لَہٗ۔اسی طرح ہر وہ چیز جس کا پتہ نہ لگے یا جس کی طرف جانے کا راستہ نہ ملے اس پر بھی اس لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے(اقرب)۔ایک ہوتا ہے راستہ بھول جانا اور گمراہ ہو جانا۔