تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 135
آیت میںلوگوں کے اس خیال کی تردید کرتا ہے اور فرماتا ہے تو اگر علیحدگی اختیار کرتا ہے تو ہمارے ذکر کے لئے۔اور اگر لوگوں سے ملتا ہے تو ہمارے حکم کے ماتحت۔پس تیرے متعلق لوگوں کا یہ خیال کرنا قطعی طورپر غلط اور بے بنیاد ہے۔تیری علیحدگی ذکر کے لئے ہوتی ہے اور تیرا پبلک میں آنا محض بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے ہوتا ہے۔اپنے نفس کے لئے نہیں ہوتا۔چنانچہ فرماتا ہے وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى۔اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ نادان تیری زندگی سے ناواقف ہیں انہیں اتنا بھی معلوم نہیںکہ علیحدگی کی حالت تجھے ہمیشہ پیاری رہتی ہے تو اگر لوگوں سے ملتا ہے تو محض خد ا کے لئے پس وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى میں یہ بتایا کہ آخرۃ تجھے اُولیٰ سے زیادہ راحت والی معلوم ہوتی ہے۔خَیْرٌ کے معنے راحت والی یا آرام پہنچانے والی چیز کے ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیںکہ ان آیات میںکون سی چیز آخرۃ کہلا سکتی ہے اور کون سی اُولیٰ۔سو پہلی آیت میں ضُـحٰی کو پہلے بیان کیاگیا ہے اور لیل کو بعدمیں۔پس آخرۃ لیل ہوئی اور اُولیٰ ضـحٰی ہوئی اور ضـحٰی یعنی دن کے وقت چونکہ انسان لوگوں سے ملتا ہے اس لئے وہ ضـحٰی جلوت کا قائم مقام سمجھی جائے گی اور رات کو وہ چونکہ علیحدہ ہوتا ہے اس لئے لَیْل خلوت کا قائم مقام سمجھی جائے گی ان معنوں کے مطابق آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ اے ہمارے رسول ! تجھے خلوت سے جلوت کی نسبت زیادہ راحت معلوم ہوتی ہے۔لوگ تجھے جاہ پسند سمجھتے ہیں حالانکہ تولوگوں سے محض ہمارے حکم کے ماتحت ملتاہے ورنہ رات کو ہم سے راز و نیاز کی باتیںکرنا تجھے زیادہ پسند ہیںاور جو برکات تجھے رات کو ہم دیتے ہیںوہ دن کو ملنے والے انسان تجھے کہاں دے سکتے ہیں۔پس جب کہ تیری تمام ترقیات تیر ی خلوت کی گھڑیوں سے وابستہ ہیں اور تو اسے دل سے جلوت پر ترجیح دیتا ہے تو لوگوںکا یہ کہنا کہ تو جاہ پسند ہے تیرے دل کو کیوں دکھ پہنچائے کہ یہ اعتراض حقیقت سے دور اور سر تا پا جھوٹ ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے متعلق بھی بیان فرمائی ہے کہ ’’میںپوشیدگی کے حجرہ میںتھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اُس نے گوشہ ٔتنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔میںنے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اس نے کہا کہ میںتجھے تما م دنیا میںعزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟میرا اس میںکیا قصور ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ۱۵۳) وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى میںاسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جبراً گوشہ ٔتنہائی سے باہر نکالا۔ورنہ ان کی خواہش یہی تھی کہ وہ خلوت میںاللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہیں۔