تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 136

چنانچہ دیکھ لو غارحرا میںجب فرشتے نے کہا اِقْرأْ تو آپؐنے یہی جواب دیا کہ مَا اَ نَا بِقِارِیٍٔ۔(صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی اِلَی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم) میرے سپرد یہ کام کیوں کیاجاتا ہے میںتو اپنے رب کی عبادت پسند کرتا ہوں۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس اعتراض کو رد کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وجاہت پسند ی کے لئے لوگوں سے ملتے ہیںاور بتایا ہے کہ ان نادانوں کو یہ معلوم نہیںکہ ساعت آخرت یعنی لَیْل تیرے لئے اچھی ہوتی ہے اور تواس سے بہت زیادہ راحت محسوس کرتا ہے۔لوگوں کو ملنا تجھے پسند نہیں۔تو اگر ملتا ہے تو محض خدا تعالیٰ کے حکم سے۔تیری ذاتی خواہش کا اس میںکوئی دخل نہیںہوتا۔وَ الضُّحٰى وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کے ایک معنے یہ بھی کئے گئے تھے کہ ترقی اور تنزل دونوں دَور میں ہم تیرے ساتھ رہیں گے اور تیرے کام کو تباہ نہیں ہونے دیں گے۔ان معنوں کے رُو سے وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کا یہ مفہوم ہوگا کہ ہمیشہ رات کے بعد ضُـحٰی آتی رہے گی یہ معنے نہیں کہ آخری زمانہ پہلے سے اچھا ہوگا بلکہ تاریکی اور روشنی کے دَور دو طرح آسکتے ہیں ایک یہ کہ پہلے روشنی اور پھر تاریکی کا دَور آئے اور دوسرے یہ کہ پہلے تاریکی پھر روشنی کا دَور آئے۔فرماتا ہے تیرے لئے ہمیشہ روشنی کا دَور آخری ہوتا چلا جائےگا۔بعض لوگ پہلے ترقی کرتے ہیں پھر گر جاتے ہیں اور ان کی پہلی ترقی کی وجہ سے لوگ اُن پر رشک نہیں کرتے اُن کی آخری تباہی کی وجہ سے اُن کے حالات سے عبرت پکڑتے ہیں۔پھر قومی طور پر بعض اقوام یک دم بڑھ کر گرجاتی ہیں اور بعض گرتی ہیں پھر اونچی نکل جاتی ہیں پھر گرتی ہیں پھر اونچی نکل جاتی ہیں۔اِسی طرف اِ س آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی معاملہ بھی ایسا ہوگا کہ آپ پہلے تکالیف اُٹھائیں گے مگر پھر ترقی کر جائیں گے اور آپ کی قوم سے بھی یہ معاملہ ہوگا کہ ہرتنزل کے بعد اللہ تعالیٰ مامورین یا مجددین کے ذریعہ سے اس کے اُبھارنے کے سامان کرتا چلا جائے گا اور اسی طرح بعد میں آنے والا دَور اپنے سے پہلے تنزل کے دور سے بہتر ہوگا۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ یہ ذکر نہیںکہ ہر آنے والا روحانی دور پہلے روحانی زمانہ سے اچھا ہوگا کیونکہ اس طرح تو یہ ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ آئندہ روحانی دَور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اچھے ہوں گے اور یہ بالبداہت غلط ہے۔پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر تنزل کے بعد اس سے بہتر زمانہ اُمتِ اسلامیہ پر لایا جائے گا جس میں اس کی روحانی حالت پھر ترقی کر جائے گی۔پس پہلے روحانی دَوروں کا مقابلہ نہیں بلکہ ہر دَور روحانی