تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 134
بوڑھے کیا سب آپ پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔پھر ذہانت آپ کی آخر تک قائم رہی۔انسان بالعموم آخرعمر میںجا کر کمزور دماغ کے ہو جاتے ہیں اور ان کا علم سلب ہونا شروع ہو جاتا ہے مگر آپؐکے علم اور ذہانت میںآخر تک کوئی فرق نہ آیا بلکہ ہر دن جو آپؐکی زندگی میںآیا پہلے سے بڑھ کر آیا۔اسی طرح جو کلام آپ پر نازل ہوا وہ آخر دم تک نازل ہوتا رہا اور ہر روز نئی سے نئی باتوں کا آپؐکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم دیا جاتا رہا۔غرض کوئی دن آپ کی زندگی میںایسا نہ آیا جب لوگوں نے یہ کہا ہو کہ یہ سٹھیا گیا ہے، اس کا دماغ کمزور ہوگیا ہے، اس کا علم جاتا رہا ہے بلکہ ہر دن جو آپؐپر آیا پہلے سے زیادہ علم لے کر آیا اور پہلے سے زیادہ دنیا کے سکھانے اور سمجھانے اور پڑھانے میں صرف ہوا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی صداقت کو واضح کر دیا کہ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى۔تیرے لئے آخرت پہلی حالت سے بہت اچھی ہو گی۔وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کے ایک اور معنے بھی ہیں جو قبض و بسط کی روحانی کیفیات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى میں یہ مضمون بیان کیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بسط کی حالت بھی خدا تعالیٰ کی معیت کا ثبوت ہو گی اور ان کی قبض کی حالت بھی مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کا ثبوت ہو گی۔اب اس آیت میں یہ بتاتا ہے کہ ہم ایک بات کی تمہیں تسلی دلا دیتے ہیں اور وہ یہ کہ تم ان روحانی لہروں میں یکساں نہیں چلو گے بلکہ ہمیشہ پہلے سے اونچے نکلتے جائو گے۔لہر کی رفتار دراصل دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک رفتار تو اس قسم کی ہوتی ہے کہ ایک ہی مقام پر وہ اوپر نیچے ہوتی ہوئی چلی جاتی ہے لیکن ایک رفتار ا س قسم کی ہوتی ہے کہ ہر دفعہ نیچے آکر وہ پہلے سے اور زیادہ اونچی چلی جاتی ہے یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى میں بیان فرمایا ہے کہ بے شک تجھ پر قبض کی حالتیں بھی آئیں گی اور بسط کی حالتیںبھی آئیںگی اور یہ دونوں حالتیںمعیت الٰہی اور رضاءِ باری تعالیٰ کے ساتھ ہوں گی مگر اس کے ساتھ ہی ایک زائد بات یہ بھی ہو گی کہ تیرا نیچے جھکنا ایسا ہی ہو گا جیسے پرندہ نیچے کی طرف اپنا پَر مارتا ہے وہ بے شک نیچے جھک کر اپنا پَر مارتا ہے مگر اس کا نیچے جھکنا اسے اور زیادہ بلندی پر لے جانے کا موجب بن جاتا ہے اسی طرح ہر دفعہ تیرا نیچے جھکنا ایسا ہی ہو گا جیسے پرندہ پَر مارتا ہےاور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے بھی اونچا چلا جاتا ہے۔گویا بتا دیا کہ تیری پرواز پرندوں والی ہو گی اور قبض کی ہر حالت جو تجھ پر وارد ہوگی وہ تجھے اور زیادہ بلندی کی طرف لے جائے گی۔اس آیت کے ایک اور معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ جو شخص ماموریت کا مدعی ہو وہ جب لوگوں سے ملتا ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ وجاہت پسندی کے لئے یا لوگوں میںاپنی مقبولیت اور عظمت قائم کرنے کے لئے ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس