تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 133

حالت تھی کہ ابو بکر ؓ کے رعب سے میںفوراً تلوار نہیں چلا سکاتھا اس بات کا انتظار کر رہا تھا کہ یہ بڈھا اپنی بات ختم کرلے تو میںاس کی گردن اڑا دوں اور یا جب ابوبکرؓ نے اپنی بات ختم کر لی تو میری ٹانگیں کانپ گئیں اور میںزمین پر گر گیا(السیرۃ النبویۃ لاحـمد بن زینی دحلان باب فی ذکر وفاتہٖ)۔اس وقت صحابہ ؓ کو اپنے محبوب کی جدائی سے جس قدر غم ہوا اس کا اندازہ اس شعر سے لگایا جا سکتا ہے جو حضرت حسان ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا۔جب انہیں یقین آگیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہوچکے ہیںتو حضرت حسان ؓ نے کہا ؎ کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَـعَــمِیْ عَــلَیَّ الــــــــنَّــــاظِــــــــرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَــــــعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرُ وہ کہتے ہیں حضرت عمر ؓ کے کھڑے ہونے سے پہلے تو ہم نے سمجھا کہ شاید یہ بات غلط ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں مگر جب ابو بکر ؓ نے ہماری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا تو بے اختیار میری زبان پر یہ شعر جاری ہو گیا ؎ کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَـعَــمِیْ عَــلَیَّ الــــــــنَّــــاظِــــــــرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَــــــعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرُ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تُو تو میری آنکھ کی پتلی تھا تیرے مرنے سے میری آنکھ کی پتلی جاتی رہی ہے اور میں اندھا ہو گیا ہوں اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک تُو زندہ رہا مجھے وہ سب کے سب فوائد تجھ سے مل رہے تھے جو کسی کو مل سکتے ہیں۔مجھے دین بھی مل رہا تھا اور دنیا بھی مل رہی تھی اور مجھے دنیا کی ہر نعمت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آتی تھی لیکن آج جب کہ تو زندہ نہیں رہا میں اندھا ہو گیا ہوں۔اس لئے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوئی مرے۔باپ مرے، بیٹا مرے، بیوی مرے، بھائی مرے مجھے کسی کی پروا نہیں۔مجھے تو تیری جان کا ہی ڈر لگا ہوا تھا۔دیکھو یہ کیسی شاندار محبت تھی جس کا صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات پر نمونہ دکھایا اور جو ثبوت تھا اس بات کا کہ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى۔لوگ مرتے ہیں تو دنیا انہیںبرا بھلا کہتی ہے۔کہتے ہیں اچھا ہوا چھٹکارا ہوا۔خس کم جہاں پاک۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوتے ہیں تو بیویاں کیااور بچے کیا اور ساتھی کیا ہرشخص کا دل غمگین ہو جاتا ہے۔پھر یہ بھی دیکھ لو کہ پہلاگھر مکہ کا تھا جہاں صرف چند رشتہ دار آپؐکے پاس تھے یا آپؐکے چچا ابو طالب آپؐکی مدد کیا کرتے تھے مگروَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کے مطابق دوسرا گھر خد اتعالیٰ نے آپ کو مدینہ میں دیا جو پہلے سے بہتر ثابت ہوا مکہ میں صرف دس بیس فدائی تھے اور مدینہ میں شہر کا شہر۔مرد کیا اور عورتیں کیا۔بچے کیا اور