تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 132

مجنونانہ طور پر لڑے تھے اوّل تو جب تک زندہ رہے انتہائی دلیری کے ساتھ لڑتے رہے پھر جب ایک ہاتھ کٹا تو دوسرے ہاتھ میں تلوار سنبھال لی۔دوسرا ہاتھ کٹ گیا تو منہ میں تلوار لے لی اور دشمن کو مارتے چلے گئے یہ دیکھ کر دشمن کو بھی شدید غصہ پیداہوا اور اس نے ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔لڑائی کے بعد جب ان کے جسم کے مختلف ٹکڑے اکٹھے کئے گئے تو تلوار کے زخموں کی وجہ سے ان کی لاش پہچانی تک نہیںجاتی تھی۔آخر ان کی ایک انگلی ملی جس پرایک نشان تھا اس نشان کو دیکھ کر مالک انصاری کی بہن نے کہا کہ یہ میرے بھائی کی لاش ہے( شرح الزرقانی کتاب المغازی غزوۃ احد )۔غرض وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کے مطابق آپؐکی محبوبیت میںروز بروز کمال پید ا ہوتا چلا گیا اور صحابۂ کرام نے اپنی فدائیت کے وہ نظارے دکھلائے جو آج تک کسی نبی کے ماننے والے دکھلا نہیںسکے۔پھر آپؐکی وفات پر جو واقعہ ہوا وہ صحابۂ کرام کی اس محبت کا کتنا بڑا ثبوت ہے جو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکھتے تھے۔وہ صحابہ ؓ جو دن رات سنتے تھے کہ مردے زندہ نہیں ہوتے، وہ صحابہ ؓ جو روزانہ سنتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وفات آسکتی ہے۔اُن پر اُس وقت ایسی جنون کی کیفیت طاری ہوگئی کہ باوجود اس مضمون کے جو روزانہ اُن کے سامنے دہرایا جاتا تھا اُن کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے یہاں تک کہ حضرت عمر ؓتلوار لے کر کھڑے ہو گئے کہ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیںتو میںاس کی گردن کاٹ دوں گا۔حضرت حسان ؓ کہتے ہیں ہمارے دلوں میںمایوسی پید اہو چکی تھی مگر جب عمر ؓتلوار لے کر کھڑے ہو گئے تو ہمارے دلوںمیں بھی جھوٹی امید پید اہو گئی اور ہم خوش ہوگئے کہ چلو وہ بات غلط نکلی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو زندہ موجود ہیں۔آخر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ آئے، منبر پر چڑھے اور انہوں نے تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُـحَمَّدً ا فَاِنَّ مُـحَمَّدًا قَدْ مَاتَ کہ تم میں سے جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا تو وہ اچھی طرح سن لے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں۔وَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ اللہَ فَاِنَّ اللہَ حَیٌّ لَا یَـمُوْتُ۔لیکن تم میںسے جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے اوروہ کبھی مر نہیں سکتا۔پھر آپؓنے یہ آیت پڑھی کہمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہیںاگر وہ مر جائیں گے تو کیا تم اپنے ایمان سے پھر جائو گے۔جب ابو بکر ؓ نے یہ بات بیان کی تب صحابہ ؓ کی آنکھیںکھلیں۔حضرت عمر ؓ کہتے ہیںجب انہوں نے یہ آیت پڑھی تب مجھے ہوش آیا اور یا تو میری یہ