تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 125
اسے چھوڑ کر جب بھی مسلمان آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے ان کے دماغ میں ایک ذہنی کشمکش شروع ہو جائے گی جو اطمینان قلب کو دور کر دیتی ہے اور یا تو مذہب سے دست بردار کر وا دیتی ہے یا ترقی سے روک دیتی ہے۔روحانی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی قوم کو بغیر مذہب کے خدا تعالیٰ ترقی کرنے دے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس قوم کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی ایسا کوڑا نہیںرہتا جو اس قوم کی تنبیہ کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہو۔اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کو مذہب کے بغیر بھی دنیوی ترقی دے دی کیونکہ خد اتعالیٰ ان قوموں کو چھوڑچکا تھا۔مگر فرماتا ہے اے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے چونکہ تجھے کبھی نہیں چھوڑنا اس لئے ہم تیری قوم کو بھی کبھی نہیں چھوڑیں گے اور وہ بغیر مذہب کی درستی کے دنیا میں کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ اگر ہم مذہب کے بغیر ہی ان کو ترقی دے دیں تو وہ غلطی سے یہ سمجھ لیں گے کہ خدا تعالیٰ ہم سے خوش ہے اور وہ دین سے اور بھی دور جا پڑیںگے۔اس لئے ہم دین سے غفلت کی حالت میں کبھی ان پر ضُـحٰی نہیں لائیں گے۔بلکہ جب بھی وہ دین سے غافل ہوں گے اور لَیْل کی حالت ان پر وارد ہو گی ہم انہیں سزا دیںگے کیونکہ اگر ہم سزا نہ دیںتواس میں ان کی موت ہے۔پس فرمایا مسلمان جب تک دین پر عمل پیرا رہیں گے ہم ان کے ساتھ رہیں گے اور انہیں دنیوی ترقیات سے بھی حصہ دیں گے مگر جب وہ ہمیںچھوڑ دیں گے ہم بھی ان کو چھوڑ دیںگے اور ان کو ان کی بد اعمالی کی سز ا دیں گے۔مگر اس لئے نہیں کہ ان پر موت آئے بلکہ اس لئے کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پھر تیری طرف واپس آئیں اور تیرے دین کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔گویا دونوں حالتوں میںہمارا ان کے ساتھ معاملہ محض اس لئے ہو گا کہ وہ تیرے دامن سے وابستہ رہیں اور کبھی ایک آن اور ایک لمحہ کے لئے بھی اسے چھوڑنے کا خیال نہ کریں۔جب وہ ترقی کریں گے ایسی حالت میںکریں گے کہ تو ان کے ساتھ ہو گا اور جب تو ان کے ساتھ نہیں ہو گا ہم انہیںسرزنش کریں گے تا کہ روشنی اور ضُـحٰی والا دور پھر واپس آجائے۔گویا تاریکی اور تنزل کی گھڑیوں میں بھی ہمارا ان کے ساتھ ایسا سلوک ہو گا جو مَاوَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کا ثبوت ہو گا۔ہم انہیں سرزنش اور تنبیہ کریں گے تاکہ وہ اپنی حالت کو بدل لیں اور جب اس تنبیہ کے بعد قوم تیری طر ف واپس لوٹے گی پھر تیرے انوار اور برکات کا دنیا میںظہور شروع ہو جائے گا گویا ضُـحٰی کے وقت بھی مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کا ظہور ہو گا اور لَیْل کے وقت بھی مَاوَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کا ظہور ہوگا۔ضُـحٰی کے وقت اس طرح کہ جب کبھی وہ ترقی کریںگے اسلام کا نور دنیا کو نظر آنے لگ جائے گا اور لَیْل کے وقت اس طرح کہ جب ان میںتنزل واقعہ ہو گا خدا تعالیٰ کوڑے مار مار کر تیری طرف واپس لائے گا یا خدا تعالیٰ کوئی روحانی سلسلہ ایسا پھر قائم کر دے گا جو تیرے جلال اور جمال کو دنیا پر ظاہر کرنے والا ہو گا۔