تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 126

غرض روحانی طورپر چونکہ اسلام آخری مذہب ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیریں مسلمانوں کو بغیر اسلام کے ترقی کرنے نہیں دیتیں تا کہ وہ مطمئن ہو کر دین سے غافل اور بے پرواہ نہ ہو جائیں۔اور یہی مضمون وَالضُّحٰى اور مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى میںبیان کیا ہے کہ اسلامی ترقی اور الٰہی قرب ہمیشہ قدم بقدم بڑھیں گے۔الٰہی قرب اور معیت اور رضا کے بغیر امت مسلمہ کو ترقی نہیں ہو گی جب بھی مسلمان دین کو چھوڑ دیں گے ترقیات ِ دنیویہ سے بھی محروم ہو جائیں گے۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے آٹھویں معنے آٹھویں معنے وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے یہ ہیں کہ اسلام پر تنزل کا زمانہ بھی آئے گا مگر وہ دائمی نہ ہو گا اورمَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کا ایک ثبوت ہوگا یعنی پھر وہ زمانہ اچھے زمانہ سے بدل جائے گا یعنی ہر تاریکی کے بعد روشنی کا زمانہ آتا رہے گا۔تاریکی کے زمانہ میں معیت اور رضاءِ الٰہی کی یہی دلیل ہوتی ہے کہ وہ جاتی رہے پس رات کے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کے راضی رہنے کے یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ پھر اسلام کی تازگی کے سامان پیدا کر دے گا پھر اللہ تعالیٰ اپنا کوئی مامور لوگوں کی اصلاح کے لئے کھڑا کر دے گا۔مسلمان اپنی کوششوں سے مایوس ہو کر اُس کی طرف آئیں گے اور چونکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہوگا اس لئے اس کی طرف آنا تیری طرف واپس آنا ہو گا۔وَ الضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰى کے نویں معنے نویں معنے اس آیت کے یہ ہیںکہ شریعت ِ اسلامیہ ترقی اور تنزل دونوں زمانوں میں محفوظ رہے گی۔قومیں شریعتوں کو دونوں زمانوں میں بدل دیتی ہیںبعض تنزل کے زمانہ میں اپنی غفلت سے بدلنے دیتی ہیں اور بعض ترقی کے زمانہ میں اپنی اغراض کے لئے بدل دیتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الضُّحٰى وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔پہلی جماعتوں کی یہ کیفیت رہی ہے کہ یا تو ضُـحٰی اور ترقی کے زمانہ میںجب وہ عیاشی میںمبتلا ہو گئیں۔انہوں نے شریعت کے اُن احکام کو بدل ڈالا جو ان کی خواہشات میں حائل تھے۔جیسے عیسائیت میں جب حکومت آئی اور غالب قوم نے کہا کہ ہفتہ کی بجائے اتوار عبادت کا دن مقرر کر دیا جائے کیونکہ ہمیں اس میں سہولت ہے تو عیسائیوں نے فوراً اس کو بدل دیا اور ہفتہ کی بجائے اتوار کا دن عبادت کے لئے مقرر کر دیا۔یا اس قوم کے افراد نے جب کہا کہ کفر کی حالت میںہم اپنی عید فلاں فلاں دنوں میں منایا کرتے تھے عیسائیت میںبھی وہی دن مقرر ہونے چاہئیں تو عیسائیوں نے اس کو بھی مان لیااور عیسوی احکام کو بدل ڈالا۔(Encyclopedia۔of religion and Ethics Underword (Sunday) in the primitive church) اور یا پھر شریعت کے احکام تنزل کے زمانہ میں بدلے جاتے ہیں جب قوم میںغفلت پیدا ہوجاتی ہے اور شرعی احکام