تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 124

ہوچکی تھیں اس وقت ان پر دنیوی ضُـحٰی کا زمانہ آیا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیری امت کے ساتھ ایسا نہیںہو گا۔مسلمانوں پر ضُـحٰی کا دور اسی وقت آئے گا جب خد اتعالیٰ سے ان کا تعلق ہو گا۔اگر خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق اپنی بداعمالی کی وجہ سے کٹ چکا ہو گا تو ضُـحٰی کا دور بھی ان پر کبھی نہیں آئے گا۔ضُـحٰی کا دور اسی وقت آئے گا جب عملی طور پر وہ خد اسے تعلق رکھ رہے ہوں گے چنانچہ دیکھ لو خلافت راشدہ کا زمانہ جو اسلام کی ترقی کا زمانہ تھا اس وقت یہ دونوں باتیں موجود تھیں ایک طرف روحانیت کا غلبہ موجود تھا اور دوسری طرف دنیوی ضُـحٰی کا دور جاری تھا مگر موجودہ زمانہ میںجب تنزل کا دور آیا تو باوجود اس کے کہ مسلمانوں نے ایک ایک کر کے وہ تمام تدا بیر اختیار کیںجو مختلف اقوام اپنی ترقی کے لئے اختیار کرتی ہیں پھر بھی وہ ضُـحٰی کا دور واپس نہ لا سکے۔مسلمانوں نے کہا غیر قومیںسود کی وجہ سے ترقی کر گئی ہیں آئو ہم بھی سود لینا شروع کر دیں تا کہ ہم بھی ترقی کی اس دوڑ میں حصہ لے سکیں۔انہوں نے سود لیا مگر جہاںدوسری اقوام سود کی وجہ سے ترقی کر گئیں وہاں مسلمان سود لینے کے باوجود تنزل اور ادبار میں گرتے چلے گئے۔پھر مسلمانوں نے کہا دنیا میںتعلیم سے ترقی ہوتی ہے آئو ہم بھی تعلیم کی طرف توجہ کریں چنانچہ انہوں نے بڑے زور سے اپنی تعلیمی حالت کو درست کرنا شروع کر دیا مگر جہاں دوسری اقوام تعلیم کی طرف توجہ کرنے کے نتیجہ میںترقی کر گئیں وہاں مسلمان تعلیم میںحصہ لینے کے باوجود گرتے چلے گئے۔پھر مسلمانوں نے کہا تجارت میںحصہ لینے سے ترقی ہوا کرتی ہے آئو ہم تجارتوں کی طرف توجہ کریں تا کہ ہم غیر قوموں کی طرح دنیا پر غالب آسکیںچنانچہ انہوں نے تجارتوں کی طرف توجہ کی مگر جہاں دوسری اقوام تجارت سے دنیا پر غالب آگئیں وہاں مسلمان تجارت میںحصہ لینے کے باوجود ذلیل سے ذلیل تر ہوتے چلے گئے۔غرض مسلمانوں نے اپنا پورا زور اس غرض کے لئے صرف کردیا کہ وہ کسی طرح ترقی کریں مگر ایک چیز بھی ان کو آگے بڑھانے کا موجب نہ بن سکی حالانکہ یہی وہ چیزیں ہیں جن سے غیر اقوام ترقی کر رہی ہیں۔پس دنیا میںجس قدر قومیںپائی جاتی ہیں وہ مذہب کو چھوڑنے کے بعد بھی ترقی کر جاتی ہیں مگر مسلمانوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ ان پر ضُـحٰی کا دور ہمیشہ مَاوَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى کے ماتحت آئے گا یہ کبھی نہیں ہوگا کہ وہ خد اتعالیٰ کو چھوڑ دیں اور خدا تعالیٰ ان کو چھوڑ دے اور پھر بھی غیر قوموں کی طرح ترقی کر جائیں۔اس کی ایک مادی وجہ ہے اور ایک روحانی۔مادی وجہ تو یہ ہے کہ پہلے مذاہب کی تعلیمات سوائے یہود کے اس طرح کی تفصیلی نہیںجس طرح اسلام کی تعلیم اپنے اندر تفصیل رکھتی ہے اس لئے ان کو چھوڑ کر بھی اقوام ترقی کر جاتی ہیں کیونکہ ذہنی کشمکش کوئی نہیں ہوتی وہ جو حالت بھی اختیار کرتی ہیں اسی کا نام اپنا مذہب رکھ لیتی ہیں۔جیسے مسیحیت ہے یا ہندو مت ہے لیکن اسلام کی تعلیم تفصیلی اور محفوظ ہے اور ہمیشہ محفوظ رہے گی