تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 7

خیالات ہیں جس کی پاکیزگی اور تقدس سے کوئی شخص انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔سورۃ الشمس کا تعلق پہلی سورتوں سے اس سورۃ کا تعلق دوسری سورتوںسے سمجھنے کے لئے اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ یہ پانچوں سورتیں جن کا ذکر سورتوں کی ترتیب کے سلسلہ میں پہلے کیا جا چکا ہے اپنے اندر یہ مضمون رکھتی ہیں کہ غرباء اور یتامیٰ و مساکین کی مدد کرنی چاہیے چنانچہ سورۃ الفجر میں آتا ہے كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ۔وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۔وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا۔وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا(الفجر:۱۸تا۲۱) پھر سورۃ البلد میں آتا ہے وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ۔فَكُّ رَقَبَةٍ۔اَوْ اِطْعٰمٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍ۔يَّتِيْمًا ذَامَقْرَبَةٍ۔اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ۔ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد:۱۳تا۱۸) پھر انہی اخلاق کا سورۂ شمس میںذکر ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا(الشمس:۹تا۱۱) پھر سورۃ الّیل میں فرماتا ہے فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰى۔وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى۔فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى۔وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰى۔وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰى۔فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى (الّیل:۶تا۱۱) اسی طرح آتا ہےوَ سَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى۔الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَهٗ يَتَزَكّٰى۔وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى(الّیل:۱۸تا۲۰) پھر سورۃ الضُّحٰی میں آتاہے فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ۔وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ۔وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ(الضُّحٰی:۱۰تا۱۲) اس سے ظاہر ہے کہ یہ پانچوں سورتیں آپس میں ایک گہرا تعلق رکھتی ہیں اور ان میں زیادہ تر اخلاق فاضلہ پر زور دیا گیا ہے بالخصوص ایسے اخلاق پر جو قومی ترقی سے تعلق رکھتے ہیں اور جن میں غریب، مظلوم، بے کس اور گرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے اور ان کے لئے ترقی کے وسائل اختیار کرنے کی تحریک پائی جاتی ہے۔ان جذبات کو خواہ دشمن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے جذبات قرار دے تب بھی ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن جذبات سے متاثر ہو کر اصلاح کا بیڑا اٹھایا وہ جذبات غرباء اور یتامیٰ و مساکین کی خدمت کے تھے۔بحر محیط کے مصنف لکھتے ہیںکہ پہلی سورۃ سے اس کا تعلق یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے مکہ کی قسم کھائی تھی اب کچھ بلندیوں اور پستیوں کی قسم کھاتا ہے۔میرے دل میں سب سے زیادہ قدر بحر محیط کے مصنف کی ہے کیونکہ تفسیر کا وہ حصہ جس سے مجھے لگائو ہے یعنی ترتیب سوَر کا مضمون۔اس سے ان کو بھی لگائو ہے مگر یہاں آکر وہ بڑی پھسپھسی بات کہہ گئے ہیں۔ان پانچ سورتوں کا مضمون (جن سورتوں کا پہلے ذکر ہو چکا ہے ) آپس میںبڑا گہرا تعلق رکھتا ہے۔اگر ہم سورۃ البلد کو سورۃ الشمس کے مضمون سے ملا دیں تو یہ سورۃ اگلی سورۃ سے جا ملتی ہے۔پس