تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 98

سورۃ الضُّحٰی مَکِّیَّۃٌ سورۃ ضحٰی۔یہ سورۃ مکی ہے۔وَھِیَ اِحْدٰی عَشْـرَۃَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِـیْـھَـا رَکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا گیارہ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۃ ضُحٰی مکی ہے ابن عباسؓکہتے ہیں کہ نَزَ لَتْ بِـمَکَّۃَ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔بعض کہتے ہیں فَتْـرَۃُ الْوَحْیِ کے بعد یہ سورۃ نازل ہوئی تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ سورۃ پڑھتے یا اس کی تلاوت سنتے تو اس وقت تکبیر کہنے کا حکم دیتے۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ صرف اتنا کہتے کہ اللّٰہُ اَکْبَـرْ کہو لیکن بعض دوسری روایات میںیہ آیا ہے کہ آپ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ فرمایا کرتے تھے۔سورۃ کے وجہ نزول کے متعلق بعض بیان کردہ وجوہات بخاری میںروایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بیمار ہوئے اور تہجد کے لئے نہ اٹھے دو تین راتیں اس طرح گذر گئیں اس پر ایک ہمسایہ مخالف عورت آئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہنے لگی معلوم ہوتاہے تیرے شیطان نے (نعوذ باللہ ) تجھے چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ دو تین رات سے تیرے پاس نہیں آیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تہجد کے وقت آپ بلند آواز سے تلاوت کیا کرتے تھے اور وہ اپنے خیال میں یہ سمجھتی تھی کہ آپ جو قرآن پڑھ رہے ہیں یہ درحقیقت کوئی سکھانے والا آپ کو سکھا رہا ہے جب بیماری کی وجہ سے آپ نہ اٹھے اور دو تین راتیں اسی حالت میں گذر گئیں تو اس نے قیاس کیا کہ نعوذ باللہ آپ کو جو شخص سکھاتا تھا یا جو روح سکھاتی تھی اس نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اس پر سورۃ الضُّحٰی نازل ہوئی۔جندبؓسے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل کچھ عرصہ تک وحی لے کر نہ اترے اس پر کفار نے کہا قَدْ وُدِّعَ مُـحَمَّدٌ (صلعم) محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو بھی کلام اترتا تھا اس کا اترنا اب بند ہو گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے چھوڑ دیا گیا ہے فَنَـزَ لَتْ مَا وَدَّ عَکَ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ وَ الضُّحٰى۔وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى۔مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى۔جندبؓسے ہی ایک دوسری روایت ہے کہ ایک دفعہ کچھ عرصہ تک وحی بند رہی تو آپ کی ایک چچیری بہن نے کہا