تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 97
لئے ترک کر دیا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں اس کا خیال نہ رکھوں، جس طرح اس نے اِبْتِغَآءً لِوَجْهِ اللّٰهِ اپنے اموال کی قربانی کی ہے اسی طرح میں اس پر راضی ہو جائوں گا اور اسے اپنے قرب میںجگہ دوں گا۔وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى میں وہی بات بیان کی گئی ہے جو يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً(الفجر:۲۸،۲۹) میں بیان کی گئی تھی۔صرف یہ فرق ہے کہ وہاں رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً کے الفا ظ تھے اور یہاں یہ الفاظ ہیں کہ وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى۔ورنہ مفہوم اور معانی کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔بندے کی خواہش یہ تھی کہ میرا خدا مجھ سے راضی ہو جائے گویا بندے کا راضی ہونا اس پر منحصر تھا کہ اُس کا خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے وَ لَسَوْفَ يَرْضٰى نے بتا دیا کہ وہ مَرْضِیَّۃً بن جائے گا یعنی خدا اس سے راضی ہو جائے گا اور چونکہ یہی بندہ کی خواہش تھی اس لئے خدا تعالیٰ کے راضی ہونے کے بعد یہ بھی راضی ہو جائے گا اور جب یہ مقام اسے حاصل ہو جائے گا تو پھر یہ بھی یقینی بات ہے کہ وہ فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ(الفجر:۳۰،۳۱) کا بھی مستحق ہو جائے گا اور جس شخص کو جنت حاصل ہو جائے وہ ہر قسم کی مکروہات سے امن میں آجاتا ہے۔غرض اس سورۃ کا اختتام اللہ تعالیٰ نے اس بات پر فرمایا ہے کہ مسلمان دنیا میں کامیاب ہوں گے لیکن کفار باوجود اپنی شدید مخالفت کے کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکیںگے۔مسلمانوں کی محنت اور ان کی قربانیاں اور کفار کی سستی اور ان کا قربانیوں میں حصہ نہ لینا، مسلمانوں کے اندر افاضہ اور استفاضہ دونوں قوتوں کا موجود ہونا اور کفار کے اندر افاضہ کی قوت کا نہ ہونا اور استفاضہ کی قوت سے کام نہ لینا ان دونوں کا ایک نتیجہ نہیں نکل سکتا کیونکہ کفار اور مسلمانوں کے کام بالکل الگ الگ ہیں۔مسلمانوں کے کاموں سے خدا راضی ہو جائے گا لیکن کفار کے کاموں سے نہیں۔یہاں گو الٹ نتیجہ اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں کیا مگر وہ نتیجہ خودبخود نکل آتا ہے کہ کفار کو ان کے کاموں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہو گی اور وہ اس کے غضب کا نشانہ بن کر تباہ و برباد ہو جائیں گے۔