تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 95
بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاٞۖ۰۰۱۷ مگر (اے مخالفو) تم (لوگ) تو ورلی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دیتے ہو۔وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ؕ۰۰۱۸ حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور دیرپا ہے۔حلّ لُغات۔تُؤْثِرُوْنَ۔تُؤْثِرُوْنَ اٰثَرَ سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور اٰثَرَ کے معنے ہیں کسی چیز کو عمدہ سمجھ کر اختیار کرلیا یا کسی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت دی (اقرب) پس تُؤْثِرُوْنَ کے معنے ہوں گے تم ترجیح دیتے ہو (۲)عمدہ سمجھ کر اختیار کرتے ہو۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ دشمنانِ اسلام کی مخالفت کی وجہ بیان کرتا ہے کہ ان کی یہ مخالفت کسی نیک جذبہ کی بنا پر نہیں کیونکہ مسلمان تو خدا تعالیٰ سے محبت کرنے والے اور اس کی عبادتیں کرنے والے ہیں بلکہ اس لئے ہے کہ وہ دنیوی زندگی کو اخروی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں سو مسلمانوں کو اپنے لئے سدراہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ نادان اتنا نہیںجانتے کہ دنیوی حیات تو ایک عارضی چیز ہے باقی رہنے والی زندگی تو وہی ہے جو آخرت کی ہے۔مگر چونکہ آخرت پر ان کو ایمان نہیں اور دنیوی زندگی کے وہ دلدادہ ہیں اس لئے مسلمانوں کی مخالفت کرتے ہیں۔اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ۙ۰۰۱۹ یقیناً یہی (بات) پہلے صحیفوں میں بھی (درج) ہے۔صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰىؒ۰۰۲۰ (یعنی) ابراہیم اور موسٰی کے صحیفوں میں۔تفسیر۔فرماتا ہے یہ بات جو ہم نے پہلے بیان کی ہے یہ کوئی فرضی اور من گھڑت نہیں بلکہ صحف اولیٰ میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے چنانچہ موسٰی اور ابراہیم ؑکے صحف کا مطالعہ کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ان صحف میں