تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 94
تَزَکّٰی کے معنے پاک ہونے کے ہوتے ہیں۔پس اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ وہ شخص کامیاب ہوا جس نے تقدس کا جامہ پہن لیا۔اللہ تعالیٰ چونکہ خود قدوس ہے اس لئے وہی شخص اس کا قرب حاصل کر سکتا ہے جو تقدس اور پاکیزگی اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔گناہ آلود زندگی بسر کرنے والے خدا تعالیٰ کے احکام کو پس پشت ڈالنے والے شیطانی راہوں کو اختیار کرنے والے اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے والے دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں اور آخر ت میں بھی ذلیل ہوں گے۔تمام کامیابیوں کی جڑ پاکیزگی اختیار کرنا ہے۔وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ۰۰۱۶ اور (پاک بننے کے ساتھ ساتھ) اس نے اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھتا رہا۔تفسیر۔ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ کے معنے صرف یہی نہیں کہ انسان منہ سے کہتا رہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔سُبْحَانَ اللّٰہِ۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔یا آج کل کے نام نہاد مسلمانوں کی طرح جو ذکر الٰہی کی اہمیت اور اس کے طریق سے ناواقف ہوتے ہیں صرف اللہ اللہ کہتا رہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا انسان کو ہر وقت یاد رہے چنانچہ فَصَلّٰى کا لفظ جو اس کے ساتھ ہی استعمال ہوا ہے بتا رہا ہے کہ ذَكَرَ سے مراد محض الفاظ کی رٹ لگانا نہیں بلکہ اس سے مراد وہ ذکر ہے جس کے نتیجہ میں نماز پڑھی جاتی ہے اگر منہ سے کہنے والی بات ہی مراد ہوتی تو وہ تو خود بخود نماز میں آجاتی ہے اس کے علیحدہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی مگر اللہ تعالیٰ کا ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ کا پہلے ذکر کرنا اور فَصَلّٰى کو بعد میں رکھنا بتا رہا ہے کہ یہ وہ ذکر ہے کہ جس کے بعد نماز پڑھی جاتی ہے یعنی انسانی قلب پر خدا تعالیٰ کی محبت اس قدر غالب ہو کہ وہ بے چین ہو کر کھڑا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جائے۔پھر خدا کی محبت کا شعلہ اس کے دل میں بھڑک اٹھے اور وہ اپنے محبوب کے سامنے سربسجود ہو جائے گویا ایک دیوانگی اور وارفتگی اس پر طاری ہو۔خدا تعالیٰ کا ذکر اس کی غذا ہو اور اس کی یاد اس کے دل میں اس طرح بار بار تازہ ہو کہ وہ اس بات پر مجبور ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرے اور اپنی محبت کے جذبات کا ہدیہ اس کے سامنے پیش کرے۔گویا اس ذَكَرَ سے مراد محض منہ سے اللہ تعالیٰ کہنا نہیں بلکہ وہ عملی حالت مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کے عشق پر دلالت کرتی ہے اور جس کے نتیجہ میں نماز اور عبادت پیدا ہوتی ہے۔