تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 93
اتنا شدید ہو گا کہ نہ تو وہ مر کر اس سے چھٹکارا حاصل کر سکیں گے اور نہ زندہ رہ کر اس کو برداشت کرنے کی طاقت رکھیں گے ان کی زندگی موت سے بدتر ہو گی اس آیت میں ایک لطیفہ بھی ہے۔عیسائی عام طور پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا کرتے تھے ان کے اس اعتراض کا اس آیت سے بھی ردّ ہوتا ہے کیونکہ اس میں بطور پیشگوئی بتایا گیا ہے کہ اسلام کے دشمن جو آج تمہیں دکھائی دے رہے ہیں ان کو زندہ رکھا جائے گا تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے اسلام کی ترقی اور اپنی ناکامی و نامرادی کو دیکھ دیکھ کر جلیں اور انہیں معلوم ہو کہ وہ کیسے غلط راستہ پر چلتے رہے ہیں۔اگر مسلمان دشمنوں کو ہلاک کر دیتے تو یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوتی۔پس دشمن کے اعتراض کا اس آیت میں جواب دے دیا گیا ہے۔یہ سورۃ ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے اور شروع میں ہی مسلمانوں کو حکم دے دیا گیا ہے کہ تمہاری مخالفت تو ہو گی مگر دیکھنا دشمن کو مارنا نہیں سوائے اس کے کہ وہ خود حملہ کر کے آ جائیں کیونکہ ہم نے اسلام کو اتنی ترقی اور اتنی عظمت دینی ہے کہ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہزار ہزار موت کے برابر ہو جائے گا پس انہیں زندہ رہنے دینا تاکہ یہ اسلام کی شوکت اور اپنی نامرادی کو دیکھ دیکھ کر ذلیل ہوں اور انہیں اپنی زندگی موت سے بھی بدتر معلوم ہو۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ۰۰۱۵ جو پاک بنے گا وہ یقیناً کامیاب ہو گا۔حلّ لُغات۔اَفْلَحَ۔اَفْلَحَکے معنے ہوتے ہیں فَازَ وَظَفِرَ بِـمَا طَلَبَ یعنی اپنے ارادہ میں کامیاب ہو گیا اور مقصود کو پا لیا۔کہتے ہیں اَفْلَحَ زَیْدٌ اور معنے ہوتے ہیں نَـجَحَ فِی سَعْیِہٖ وَاَصَابَ فِیْ عَـمَلِہٖ زید نے اپنی کوشش کے پھل کو پا لیا اور اس کی محنت بار آور ہوئی (اقرب) تاج العروس میں ہے ہرشخص جو کسی دنیوی یا دینی بھلائی کو حاصل کر لے مُفْلِحٌ کہلاتا ہے اور فَلَاحٌ ایسی کامیابی کو کہتے ہیں جس پر دوسرے رشک کریں۔ائمہ عرب کا اس پر اتفاق ہے کہ عربی زبان میں فَلَاحٌ کے لفظ سے بڑھ کر دینی اور دنیوی دونوں بھلائیوں کو شامل رکھنے والا لفظ اور کوئی نہیں(تاج العروس)۔تَزَکّٰی کے معنے ہیں صَارَ زَکِیًّا وہ پاک ہو گیا (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے یقیناً وہ شخص بامراد ہوا جو نفسانی خواہشات سے اجتناب اختیار کر کے پاک ہوا۔