تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 92

صرف شقی ہے۔عیسٰیؑ کا منکر صرف شقی ہے۔ابراہیمؑ کا منکر صرف شقی ہے۔داؤدؑ اور سلیمانؑ کا منکر صرف شقی ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر اَشْقٰی ہے۔کیونکہ آپؐتمام انبیاء سابقین سے زیادہ بلند درجہ رکھنے والے ہیں اور آپؐ جو ہدایت لائے وہ بھی تمام ہدایتوں سے افضل اور بلند تر ہے۔دوسرے اَشْقٰی کا لفظ جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں یہ بتانے کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔کہ ہدایت سے محروم صرف بڑا شقی ہوتا ہے ورنہ عا م شقی بھی کسی وقت ہدایت پاجاتا ہے۔الَّذِيْ يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰى ۚ۰۰۱۳ (وہی) جو بڑی آگ میں داخل ہونے والا ہے۔حلّ لُغات۔یَصْلٰی۔یَصْلٰی صَلٰی سے مضارع کا صیغہ ہے۔اور صَلِیَ النَّارَ کے معنے ہوتے ہیں قَاسَی حَرَّھَا وَاِحْتَرَقَ بِـھَا وَدَخَلَ فِیْـھَا۔یعنی آگ کی گرمی کی تکلیف برداشت کی اور آگ میں جلا اور اس میں داخل ہوا (اقرب) پس یَصْلَی النَّارَ کے معنے ہوں گے وہ آگ میں داخل ہو گا۔تفسیر۔چونکہ اس شخص نے سب سے بڑے نبی کا انکار کیا تھا اس لئے اس مناسبت کی بنا پر فرمایا کہ ایسے شخص کو سب سے بڑی آگ میں داخل کیا جائے گا یا باوجود بار بار کی اور پوری تبلیغ کے نہ مانا اس لئے اشد تریں بھڑکنے والی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى ؕ۰۰۱۴ پھر (اس میں داخل ہونے کے بعد) نہ تو وہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔تفسیر۔وہ مرے گا اس لئے نہیں کہ زندہ رہے گا اور زندہ اس لئے نہیں ہو گا کہ زندگی اس کو کہتے ہیں جس میں اطمینان اور آرام اور سکون حاصل ہو۔اسے چونکہ انتہائی تکلیف ہو گی اس لئے اس کے زندہ ہونے کو زندگی نہیں کہا جائے گا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی سخت بیمار سے دریافت کیا جائے کہ تمہارا کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے میرا حال کیا پوچھتے ہو میں نہ مرتا ہوں نہ جیتا ہوں۔یعنی میں مرا تو نہیں کیونکہ جی رہا ہوں مگر میں جیتا بھی نہیں ہوں کیونکہ زندگی سخت تکلیف سے کٹ رہی ہے۔اسی طرح فرماتا ہے لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى عذاب