تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 85
ہوجاتے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ہر حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے احکام میں ایسی لچک پیدا کر دی ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ میرے لئے اسلام کے فلاں حکم پر عمل کرنا ناممکن ہے۔یا مثلاً جہاد پر قرآن کریم نے بڑا زور دیا ہے مگر ساتھ ہی کہہ دیا ہے کہ وہ لُولے اور لنگڑے جو جہاد پر جانے کی طاقت نہیں رکھتے اگر دل میں اسلام کا درد رکھتے ہوں اور خواہش رکھتے ہیں کہ کاش ان کے اندر طاقت ہوتی تو وہ بھی جہاد میں شریک ہوتے اس قسم کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں جہاد کے ثواب میں شریک ہوں گے۔غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم تم کو لے جائیں گے یا ہم تم کو قریب کر دیں گے یُسْـرٰی تعلیم کے۔یہ یُسْـرٰی قرآن کریم ہے۔کیا بلحاظ اس کے کہ اس کو حفظ کرنا نہایت آسان ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ عمل کرنا نہایت آسان ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ اسلام میں تو روزانہ پانچ وقت نمازیں پڑھنے کا حکم ہے اور عیسائیوں میں ہفتہ میں صرف ایک دن تھوڑی دیر کے لئے عبادت کرنے کا حکم ہے۔اب بتاؤ ان دونوں میں سے کون سی آسان تعلیم ہوئی۔اسلام کی جس میں روزانہ پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم ہے یا عیسائیت کی جس میں ہفتہ میں صرف ایک دن تھوڑی دیر کے لئے عبادت کرنے کا حکم ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ یُسْـرٰی ایسی چیز کو بھی کہتے ہیں جو خواہ جسمانی طور پر تکلیف دِہ ہو لیکن روحانی طور انسان کے لئے نہایت فرحت بخش ہو۔ہمارے ہاں لوگ کہا کرتے ہیں کہ میرے لئے تو مر جانا آسان ہے بہ نسبت فلاں دوست کو چھوڑ دینے کے۔اب دیکھو جہاں تک جسم کا تعلق ہے مرنا آسان نہیں اور کسی دوست کو چھوڑ دینا اس کے مقابلہ میں بالکل معمولی چیز ہے۔موت کی تلخی جسم کے لئے بڑی سخت ہوتی ہے مگر اس کے باوجود انسان کہتا ہے کہ میرے لئے مرنا آسان ہے مگر میں اس دوست کو نہیں چھوڑ سکتا۔جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میرے قلب کو اس سے اپنی زندگی سے بھی زیادہ اُنس اور پیار ہے۔اسی طرح اسلام میں گو روزانہ پانچ وقت نمازیں پڑھنے کا حکم ہے مگر چونکہ نماز میں انسان کا اپنا روحانی فائدہ ہے اس لئے پانچ نمازیں پڑھنا اس کے لئے آسان ہو جائے گا بہ نسبت اس ایک نماز کے جو ہفتہ میں صرف ایک دن پڑھنی پڑے۔مومن کہے گا کہ میرے لئے یہ پانچ نمازیں بہ نسبت ہفتہ والی صرف ایک نماز کے زیادہ آسان ہیں کیونکہ صرف ایک نماز کے نتیجہ میں میرا خدا مجھ سے چھوٹ جاتا ہے اور پانچ نمازوں کے نتیجہ میں میرا خدا مجھ سے مل جاتا ہے۔پس یُسْـرٰی سے مراد ظاہری آسانی نہیں بلکہ روحانی فوائد کے اعتبار سے آسانی مراد ہے کہ جب انسان روحانی فوائد دیکھتا ہے تو عمل اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔