تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 80
یاد رکھنا وہ ضروری نہیں سمجھتا الفاظ بے شک اسے یاد ہوتے ہیں مگر مضمون اس کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں ر کھتا۔اس سے جب پوچھا جائے کہ کیا فلاں شعر تمہیں یاد ہے اور پوچھنے والا شعر پڑھ کر بھی سنا دے اور وہ جواب میں کہے کہ میں نے اس شعر کو بھلا دیا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ اس شعر کے الفاظ میرے ذہن میں نہیں بلکہ یہ معنے ہوں گے کہ اس شعر سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا۔میں نے اس کے مضمون کو بھلا دیا ہے۔یا مثلاً بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے سے پوچھتا ہے تمہارے فلاں دوست کا کیا حال ہے۔اور وہ جواب میں کہتا ہے میں نے اسے بھلا دیا ہے۔اب اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اس کا نام اسے یاد نہیں رہا یا اس کی شکل اس کے ذہن میں مستحضر نہیں رہی۔نام اس وقت لیا جا رہا ہوتا ہے اور شکل بھی بہرحال اس کے ذہن میں موجود ہوتی ہے اس وقت اس کا یہ کہنا کہ میں نے اس کو بھلا دیا ہے صرف یہ مفہوم رکھتا ہے کہ میرا اب اس سے کوئی تعلق نہیں۔تو نسیان کا لفظ صرف الفاظ بھولنے کے معنوں میں ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ حقیقت کو بھول جانے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اور قرآن کریم میں اس کی مثال موجو دہے۔اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے۔فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ: ۱۱۶) وہ ہمارے حکم کو بھول گیا اور ہم نے اس کے اندر عزم نہیں پایا۔یہاں نسیان اور عزم نہ پائے جانے سے مراد یہ ہے کہ کسی خاص ارادہ اور نیت سے اس نے یہ کام نہیں کیا تھا۔یہ مراد نہیں کہ ہمارا حکم اس کے ذہن سے نکل گیا تھا بلکہ جیسا کہ دوسری آیات سے ثابت ہے حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو بھولے نہیں تھے بلکہ یہ حکم انہیں خوب یاد تھا اور نہ صرف یا دتھا بلکہ شیطان نے انہیں یہ حکم یاد کرایا تھا۔چنانچہ سورۂ اعراف میں ذکر آتا ہے کہ جب شیطان حضرت آدم علیہ السلام کو ورغلانے کے لئے ان کے پاس آیا تو کہا مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ۔وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّيْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ (الاعراف:۲۱،۲۲) اب دیکھو شیطان ان کو بہکا رہا ہے مگر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا حکم انہیں یاد کرا رہا ہے اور کہتا ہے کہ بےشک خدا تعالیٰ نے تمہیں اس درخت کے پاس جانے سے منع کیا تھا مگر یہ ممانعت کا حکم محض اس لئے تھا کہ اگر تم دونوں اس درخت کے قریب گئے تو فرشتے بن جاؤ گے۔یا خدا تعالیٰ کو یہ ڈر تھا کہ اگر تم اس درخت کے قریب گئے تو تم ابدی زندگی حاصل کر لو گے اس لئے خدا تعالیٰ نے تمہیں منع کیا اور کہا کہ اس درخت کے قریب نہ جانا۔گویا منع توضرور کیا تھا مگر اس لئے منع کیا تھا کہ خدا یہ نہیں چاہتا تھا کہ تم مَلک بن جاؤ اور خدا یہ نہیں چاہتا تھا کہ تم خالدین میں سے بن جاؤ۔یہی اس ممانعت میں حکمت تھی مگر یہ دونوں باتیں اچھی ہیں بری نہیں ہیں اس لئے اگر مَلک بننے کے لئے یا ابدی زندگی حاصل کرنے کے لئے اس حکم کو توڑ دیا جائے تو یہ نقصان دہ بات نہیں