تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 76
اس سے اندازہ لگا کر کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت تک قرآن کریم کی یقیناً لاکھوں کاپیاں تیار ہو چکی ہوں گی جو سفر اور حضر میں مسلمان اپنے پاس رکھتے ہوں گے۔پس یہ بھی ایک ذریعہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کے متعلق اختیار کیا۔قرآن مجید کی حفاظت کا پانچوں سامان پانچواں سامان اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کے لئے یہ کر دیا کہ اسلام شروع میں ہی مختلف ممالک میں پھیل گیا۔چنانچہ ابھی ہزاروں صحابہ ؓ زندہ تھے کہ اسلام شام میں بھی پہنچ گیا۔عراق میں بھی پہنچ گیا۔فلسطین میں بھی پہنچ گیا۔انطاکیہ میں بھی پہنچ گیا۔ایران میں بھی پہنچ گیا۔مصر میں بھی پہنچ گیا۔اسی طرح افریقہ کے مختلف علاقوں تک اسلام کا نام جا پہنچا۔یہاں تک کہ صحابہؓ چین تک گئے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت کی۔ہندوستان میں آئے اور یہاں انہوں نے اسلام پھیلایا۔سندھ میں جہاں ہماری زمینیں ہیں وہاں ایک گاؤں ہے جسے دیہہ صابو کہا جاتا ہے یعنی صحابہؓ کا گاؤں اور وہاں ایک قبر بھی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی صحابیؓ کی قبر ہے۔ادھر تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہؓ ہندوستان میں آئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے یہ بات درست ہی ہو کہ وہ کسی صحابیؓکی قبر ہے۔گویقینی شواہد پر ہم اس بات کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔مگر یہ روایتیںخواہ کس قدر کمزور اور ضیعف ہوں بہرحال پرانے زمانہ سے چلی آ رہی ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں ہی صحابہؓ عرب سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گئے اور انہوں نے اسلام کو پھیلانا شروع کر دیا۔اور چونکہ وہ جہاں بھی جاتے قرآن کریم کی کاپیاں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے قرآن کریم کی ہزاروں کاپیاں یک دم سارے جہان میں پھیلا دیںاور مختلف اقوام اس کی حفاظت میں مشغول ہو گئیں۔یہ بھی ایک ذریعہ تھا جو قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا۔حفاظت قرآن کا چھٹا سامان چھٹا سامان اللہ تعالیٰ نے حفاظتِ قرآن کریم کے متعلق یہ پیدا کیا کہ شروع میں ہی عربی زبان مختلف ممالک میں پھیل گئی اور اس وجہ سے ترجمہ کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ہر ملک کے لوگ عربی زبان میں ہی قرآن کریم کو سمجھ سکتے تھے۔فرض کرو اگر عربوں کا فائدہ قرآن کریم کے بگاڑنے میں ہوتا تب بھی وہ اس کی جرأت نہیں کر سکتے تھے۔کیونکہ فلسطینی نگرانی کے لئے موجود تھے۔عراق اور شام اور مصر کے لوگ ان کی نگرانی کے لئے موجود تھے اور وہ یہ جرأت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کر دیں۔غرض عربی زبان کے مختلف ممالک میں پھیل جانے کی وجہ سے اس کی نگرانی مختلف قوموں کے ذمہ لگ گئی اور اس طرح