تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 73

کر سکتے تو ان کا یہ دعویٰ خود بخود باطل ہو جاتا ہے کہ اس قرآن میں سے دس پارے غائب ہیں۔بہرحال خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کا ایک سامان یہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معًا بعد مسلمانوں میں اختلاف پیدا کر دیا تاکہ وہ ایک دوسرے کے نگران رہیںاور کوئی فریق قرآن کریم میں دست برد نہ کر سکے۔دوسرا سامان حفاظ کی کثرت دوسرا سامان خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کے لئے یہ کیا کہ حفاظ و قرّاء کو اس کثرت کے ساتھ پیدا کر دیا کہ دنیا میں اس کی اور کہیں نظیر نہیں ملتی۔قرآن کریم پہلی الہامی کتاب نہیں جو دنیا میں نازل ہوئی ہو بلکہ اس سے پہلے اور بھی کئی الہامی کتابیں نازل ہو چکی ہیں مگر کسی ایک کتاب کو بھی یہ بات میسر نہیں آئی کہ اسے ا س کے ماننے والوں نے حفظ کیا ہو۔لیکن قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کے لاکھوں حفاظ آج بھی دنیا میں موجو دہیں اور وہ شروع سے لے کر آخر تک اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف سنا سکتے ہیں۔میں جب انگلستان گیا تو کسی شخص نے مجھ سے کہا کہ قرآن پر ایک بڑا زمانہ گذر چکا ہے اور پھر اس وقت تو تحریر کا بھی رواج نہیں تھا اس لئے قرآن کریم کے متعلق یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وہی کتاب ہے جو آج سے تیرہ سو سال پہلے دنیا کے سامنے پیش کی گئی۔میں ۱۹۲۴ء میں انگلستان گیا تھا اور اس وقت ناصر احمد کی عمر ۱۵سال کی تھی اور وہ قرآن کریم کو حفظ کر چکا تھا۔میں نے اسے جواب دیا کہ بے شک تحریر کا اس وقت رواج نہیں تھا مگر حفاظ کا وجود پایا جاتا تھا لوگ اس کتاب کو حفظ کر لیتے تھے اور اس طرح سینہ بہ سینہ نسلاً بعد نسلٍ لوگ اس کو یاد رکھتے چلے جاتے تھے۔اس نے کہا اتنی بڑی کتاب کو کون حفظ کر سکتا ہے۔میں نے کہا عربوں کا حافظہ تو دنیا میں مشہور ہے۔لاکھوں اشعار ایک ایک شخص کو یاد ہوا کرتے تھے۔ان کے لئے قرآن کریم کو حفظ کر لینا کوئی مشکل امر نہیں تھا۔مگر تم عربوں کا ذکر جانے دو۔میرا لڑکا جس کی عمر صرف پندرہ سال ہے اس نے سارا قرآن کریم حفظ کیا ہوا ہے۔یہ سن کر وہ حیران ہو گیا کہ اتنی بڑی کتاب کو اس نے کس طرح حفظ کر لیا۔میں نے کہا ہمارے ہاں تو قرآن کریم حفظ کرنے کا عام رواج ہے۔لوگ اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ اپنے بچوں کو قرآن کریم حفظ کراتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ان کو حاصل ہو گئی۔یورپین لوگ اس بات کا قیاس بھی نہیں کر سکتے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یہ نعمت ملی ہی نہیں اور اس وجہ سے وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ اتنی بڑی کتاب کو کس طرح حفظ کیا جا سکتا ہے۔مسلمانوں میں حفظ قرآن کا اس قدر رواج تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غزوہ میں دشمن نے ستر حفاظ مار ڈالے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے دادا مرزا گل محمد صاحب کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے کہ ان کے دربار میں پانچ سو حافظ تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سپاہی وغیرہ ہر قسم کے پیشہ کے لوگ جو ان کے