تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 74

دربار میں تھے ان میں سے ایک کثیر حصہ نے قرآن کریم کو حفظ کیا ہوا تھا۔اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت سخت کمزور ہے اور وہ تنزّل کے دَور سے گذر رہے ہیں۔مگر اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں لاکھوں لاکھ حفاظ ہندوستان میں سے ہی نکل سکتے ہیں۔غرض دوسرا ذریعہ قرآن کریم کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ حفاظ و قرّاء کی کثرت پیدا کر دی اور یہ چیز بھی ایسی ہے جو کسی کے بس کی نہیں۔غرض قرآن کریم کی حفاظت کا ایک سامان خدا تعالیٰ نے یہ کیا کہ دلوں میں اس کے حفظ کی رغبت پیدا کر دی۔اور اس طرح لاکھوں لوگوں کے سینوں میں اس کا ایک ایک لفظ بلکہ زبر اور زیر تک محفوظ کر دی۔قرآن مجید کی حفاظت کا تیسرا سامان یعنی اس کا عجیب اسلوب بیان تیسرے رغبت کے علاوہ بعض طرز کلام ایسا ہوتا ہے جس کا حفظ کرنا آسان ہوتا ہے اور بعض طرزِ کلام ایسا ہوتا ہے جس کا حفظ کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ایسے اسلوب پر نازل کیا ہے کہ نثر ہونے کے باوجود شعروں کی طرح ہے اور اس کا یاد کرنا نہایت آسان ہے دنیا کے کسی لڑکے کو تم اردو کا ایک صفحہ دے دو اور ایک صفحہ قرآن کریم کا دے دو اور اسے کہو کہ وہ ان دونوں کو یاد کرے تو قرآن کریم کا صفحہ وہ جلد یاد کر لے گا۔لیکن اردو کا صفحہ یاد کرنا اس کے لئے بہت مشکل ہو گا۔پھر اگر کچھ دیر گذرنے کے بعد اس سے دوبارہ سنو کہ اس کے حافظہ میں قرآن اور اردو کہاں تک محفوظ ہے تو اردو والے صفحہ میں سے وہ شاید ایک سطر بھی سنا نہیں سکے گا لیکن قرآن کو وہ اچھی طرح سنا دے گا۔پس تیسرا ذریعہ قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار کیا کہ اسے ایسا اسلوب کلام بخشا جس کا یاد کرنا بہت ہی آسان ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک یورپین مصنف کا میں نے ایک حوالہ پڑھا ہے۔وہ لکھتا ہے قرآن کریم کے تراجم کرنے میں یورپین مصنف اس لئے غلطی کھا جاتے ہیں کہ وہ اس کے سٹائل کو نہیں دیکھتے۔قرآن کریم کا سٹائل ایسا غضب کا ہے کہ وہ نہ نظم ہے نہ نثر دونوں سے علیحدہ چیز ہے۔مگر چونکہ یورپین مصنف اس سٹائل کو نہیں سمجھتے اس لئے وہ قرآن کریم کے معانی کرنے میںٹھوکر کھا جاتے ہیں۔پھر وہ کہتا ہے قرآن کریم کو ترجمہ سے سمجھنے کی کوشش کرنا اور اس کے معانی کو استنباط کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی زبور کی آیات کے نثر کے ترجمہ سے ان کا مطلب سمجھنا چاہے۔زبور بھی ایسے سٹائل میں ہے جو شاعرانہ ہے وہ کہتا ہے زبور کا اگر نثری رنگ میں کوئی شخص ترجمہ کر دے تو دوسرے لوگ نہیں سمجھ سکیں گے کہ ز بور میں کیا کہا گیا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کو ایسے خوشنما رنگ میں ڈھالا گیا ہے کہ محض نثر میں اس کا ترجمہ کرنے سے اس کے باریک مطالب تک انسانی ذہن نہیں پہنچ سکتا۔غرض قرآن کریم کو ایسا سٹائل بخشا گیا ہے کہ اس کا حفظ کرنا اور سب عبارتوں سے